خطبات محمود (جلد 21) — Page 233
$1940 233 خطبات محمود میری دعائیں قبول نہیں ہوئیں اس لئے میرا یہ دعویٰ کرنا کہ اگر انگریز توحید کا اقرار کر کے مجھ سے دعا کی درخواست کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی فتح کے سامان پیدا کر دے گا بالکل غلط ہے۔یہ تو الہی تقدیر ہے کہ ان اعتراضات کے شائع ہونے سے پہلے ہی اصولی رنگ میں میری طرف سے ان وساوس کا جواب دیا جا چکا ہے۔چنانچہ میں یہ امر کھول کر بیان کر چکاہوں کہ کسی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ اس کی فلاں دعا ضرور قبول ہو گی یہ معنے نہیں رکھتا کہ اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی للی کم پر بھی یہی اعتراض ہوا کہ تم جو کہتے ہو کہ اگر میں دعا کروں تو اس طرح ہو جائے اگر اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتا ہے تو تم پر فلاں مصیبت کیوں آئی؟ اور تمہارے فلاں رشتہ دار کو کیوں تکلیف پہنچی ؟ رسول کریم صلی الیم نے اس اعتراض کا یہی جواب دیا کہ یہ میرے اختیار کی بات نہیں۔جب خدا تعالیٰ کی تقدیر مجھے معلوم ہوتی ہے تو میں کہہ دیتا ہوں کہ ایسا ہو جائے گا اور جب معلوم نہیں ہوتی تو میں کہتا ہوں کہ یہ امر اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے۔وہ اگر چاہے تو دعا قبول کر لے اور اگر چاہے تو ر ڈ کر دے۔پس اگر یہی بات صحیح ہو کہ دعاؤں کی قبولیت کا دعویٰ وہی شخص کر سکتا ہے جس کی ہر دعا قبول ہو یا جس پر کبھی کوئی مصیبت اور بلاء نازل نہ ہو تو ایسا شخص انبیاء میں بھی کوئی نظر نہیں آسکتا۔: اول تو ٹریکٹ لکھنے والے نے جو مثالیں دی ہیں ان میں سے سوائے ایک کے کوئی امر ایسا نہیں جس کے متعلق میں نے یہ بھی کہا ہو کہ میں نے اس کے متعلق دعا کی ہے۔صرف اس نے قیاس کر لیا ہے کہ چونکہ جماعت پر فلاں وقت فلاں مصیبت آئی اس لئے تم نے ضرور اس کے متعلق دعا کی ہو گی۔حالانکہ دعا بالکل اور چیز ہوتی ہے اور توجہ الی اللہ اور چیز ہے۔بندہ جب بھی کوئی مشکل دیکھتا ہے ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا اور اس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کی مشکل کو دور فرمادے مگر اسے دعا نہیں کہتے بلکہ اسے انابت کہتے ہیں۔دعا تو وہ ہوتی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ “جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جائے۔یہ دعا ہر روز نہیں ہوتی اور نہ ہر بات کے متعلق ہوتی ہے مگر لوگوں نے اپنی نادانی اور حماقت کی وجہ سے دعا کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ محض سجدے میں اپنا سر جھکا دینا اور کہنا کہ خدایا فلاں مصیبت ٹل جائے یا فلاں بیمار اچھا ہو جائے یہ دعا ہے حالانکہ یہ