خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 225

$1940 225 خطبات محمود پر ہی ختم ہو چکا تو آنحضرت صلی علی یم کی دعاؤں کی قبولیت کے بعد آپ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اگر قصوں پر ہی مدار تھا تو پھر وہ پہلے قصے ہی کافی تھے لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ عرفان کو قائم رکھنے کے لئے ایسے نشانات ہر وقت ضروری ہوتے ہیں جو کامل مومن اور صالح مومن بھی اپنے بعد چھوڑ جاتے ہیں۔ایسے مومن کا بھی کچھ نہ کچھ نشان قائم رہنا چاہیئے۔مولوی محمد علی صاحب نے جو تفسیر قرآن لکھی ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کاسہ لیسی میں کئی جگہ یہ بات دیگر مذاہب کے بالمقابل پیش کی ہے کہ کیا خد اتعالیٰ سو گیا ہے کہ اب بندے ہی سب کام کریں گے ، اس نے کوئی نہیں کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار یہ بات اپنی کتابوں میں پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ دوسرے مذاہب سب بندوں کے کام ہی پیش کرتے ہیں خدا تعالیٰ کا کوئی فعل پیش نہیں کرتے مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ 8 ہے۔ایک مومن اور منتقی انسان جب اپنے خدا کو پکارتا ہے تو وہ بھی اسے جواب دیتا ہے یہ ایک اسلام کا امتیازی نشان آپ نے پیش کیا ہے اور مولوی محمد علی صاحب نے اپنی تفسیر میں بیسیوں آیات کی تشریح میں یہ بات پیش کی ہے۔اگر ان کے نزدیک تفسیر ہی سب سے بڑا کام ہے جس کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی تو کیا اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے بھی ان کی طرف ہاتھ بڑھانا تھا یا نہیں۔کیا اس کے لئے کوئی کام ضروری تھا یا نہیں؟ ہمیں تو کوئی ضد نہیں ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تردید نہ کرو۔آپ کی تائیدات اور نصرتوں کا حامل بے شک مولوی محمد علی صاحب یا اپنے کسی اور لیڈر کو ثابت کرو اور اسے پیش کر دو کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنتا ہے۔صرف مجھ پر اعتراضات کر دینا کافی نہیں میری تو طبیعت ایسی ہے کہ ذرا سا زیادہ لقمہ کھانے سے بھی خراب ہو جاتی ہے۔کام کرتے ہوئے ذرا سا فاقہ کرنا پڑے تو خراب ہو جاتی ہے کیونکہ بچپن سے ہی میری صحت کمزور چلی آتی ہے۔لوگ مجھ پر اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ خود کیوں بیمار ہوتے ہیں۔کوئی بچہ یا اور عزیز بیمار ہو گیا یا کوئی فوت ہو گیا تو اعتراض کر دیا حالانکہ میری دعائیں کتنی ہی کیوں نہ مقبول ہوں آنحضرت صلی کم سے زیادہ تو نہیں ہو سکتیں اور گو آپ کی صحت غیر معمولی طور پر اچھی تھی مگر پھر بھی آپ بیمار ہوتے تھے