خطبات محمود (جلد 21) — Page 224
خطبات محمود 224 1940 ہو سکتا ہے کہ مکہ کے شعراء جب ایسی نظمیں جن میں آنحضرت صلیم اور آپ کے خاندان کی سخت ہتک ہوتی تھی لکھنے میں حد سے بڑھ گئے تو ایک روز حضرت حسان نے آپ کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ ! اب تو یہ تو بین حد سے بڑھ گئی اور نا قابل برداشت ہو گئی ہے۔اس لئے مجھے اجازت دیجئے کہ میں بھی جواب دوں۔اہل عرب اچھی زبان پر مرتے تھے اور اچھا شعر خواہ کسی کا ہو سارے ملک میں پھیل جاتا تھا۔آپ نے فرمایا حستان میں جواب کی اجازت کیسے دے سکتا ہوں؟ میرے اور ان لوگوں کے باپ دادا ایک تھے۔ان کے باپ دادا کے لئے جو لفظ استعمال کیا جائے گا وہ میرے باپ دادا کو بھی لگے گا۔حضرت حسان نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں مگر میں حضور اور حضور کے خاندان سے ان لوگوں کو اس طرح باہر رکھوں گا جس طرح مکھن سے بال علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔مگر ان لوگوں کا طریق یہ ہے کہ جب بھی کوئی حملہ کرتے ہیں وہ صرف مجھ پر ہی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی ہوتا ہے۔آپ کا مرتبہ نبی اور رسول نہ سہی مجد د اور مامور ہی سہی۔مگر کیا مجد د اور مامور دنیا میں نیکی کا کوئی نشان چھوڑتے ہیں یا ان کے بعد تاریکی ہی تاریکی باقی رہ جاتی ہے۔یہاں نبوت اور رسالت کا سوال نہیں، کسی بڑے عہدے کا سوال نہیں لیکن اس سے وہ انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان حدیثوں کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے جن میں تمام انبیاء نے ایک مامور کی خبر دی ہے۔مگر میں کہتا ہوں تم آپ کو نبی اور رسول نہ کہو، مجد د اور مامور بھی نہ کہو۔ایسا مسلمان ہی کہہ لو جس کی آمد کی سب نبیوں نے خبر دی ہے اور پھر بتاؤ کہ کیا ایسا مسلمان اپنے پیچھے کوئی نیکی بھی چھوڑے گا یا تاریکی ہی تاریکی۔تم اس نیکی کے مقام کو پیش کر دو اور کہو کہ یہ مقام ہمیں حاصل ہے۔ہمارے متعلق کہہ دو کہ تم تاریکی میں پڑے ہوئے اور پھر وہ تائیدات اور نصر تیں پیش کرو جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی تھیں۔یہ تائیدات ایسی نہ سہی جیسی آپ کو حاصل تھیں ، ان سے بہت کم سہی۔ہم مانتے ہیں کہ کسی مامور کے اتباع کا درجہ وہی نہیں ہو سکتا جو اس کو حاصل ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعاؤں کی قبولیت کا نشان جو آپ نے نیچریوں اور دہریوں کے مقابل پر پیش کیا وہ کچھ نہ کچھ تو دنیا کے سامنے پیش کرو۔اگر یہ نشان آپ کی ذات