خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 222

$1940 222 خطبات محمود کوئی فتویٰ دیں تو ہزاروں لاکھوں لوگ لٹھ لے کر ان کی تائید میں کھڑے ہو جائیں لیکن اگر وہ احمدیوں سے صلح رکھیں تو لوگ ان سے دور بھاگ جائیں۔پھر وہ کس طرح ہماری طرف توجہ کر سکتے ہیں؟ پھر علمی لیڈروں کی نگاہ میں بھی احمدی محض بے کار ہیں۔وہ لوگ جس فلسفہ اور علم النفس کو دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں ، جن اخلاق کی پابندی کرانا چاہتے ہیں، جو حریت و آزادی دماغوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں ان میں سے ہر ایک چیز کی احمدیت دشمن ہے۔پھر اگر وہ اس کی قدر کریں تو کیونکر؟ اس لئے وہ بھی اسے بے کار سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ایسا سمجھنے میں کچھ معذور بھی ہیں کیونکہ ان کا نقطہ نگاہ بالکل مختلف ہے۔مگر جو شخص احمدی کہلا تا ہے اسے اس بات کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھنا چاہیے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں اس لئے مبعوث ہوئے ہیں کہ بنی نوع انسان کا تعلق خدا تعالیٰ سے دوبارہ قائم کر دیں اور دوبارہ دنیا کو دعا کی قبولیت کا قائل کریں۔اس لئے اس کا یہ تو حق تھا کہ کہتا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف چلنے والے ہو اس لئے خدا تعالیٰ تمہاری دعا کبھی نہیں سن سکتا۔اگر اہل برطانیہ جنگ میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے مولوی محمد علی صاحب سے دعا کرائیں کیونکہ ہر احمدی کا یہ ایمان ہونا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی نمونہ تو چھوڑا ہے اسے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس غرض کے لئے مبعوث ہوئے تھے اس میں ناکام رہے اور یا پھر یہ ماننا ہو گا کہ کوئی نہ کوئی فریق ایسا ہے جس کی دعائیں اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے۔خواہ وہ میں اور میرے ساتھی ہوں یا مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء۔پس جب میں نے یہ بات کہی تھی تو ان کا یہ حق تھا کہ کہتے تم نے احمدیت کو بگاڑ دیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو چھوڑ دیا ہے۔اس لئے تمہاری دعا اللہ تعالیٰ نہیں سنے گا اور مضمون نگار صاحب یا خود مولوی محمد علی صاحب اعلان کر دیتے کہ میری دعا اللہ تعالیٰ سنے گا مگر افسوس کہ انہوں نے اس چیز کی تردید کی جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔اب بھی یہ مضمون نگار بڑی خوشی سے یہ کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری دعا نہیں سنے گا بلکہ میری سنے گا یا ان کا کوئی لیڈر اعلان کر دے کہ