خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 212

خطبات محمود 212 $1940 یہ کہتا ہے کہ جنگ کی حالت میں جب دشمن تمہیں صلح کا پیغام دے تو فوراً اس کو قبول کر لو اور اسی وقت لڑائی بند کر دو۔اور یہ امر انسانی نفس پر جس قدر گراں گزرتا ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ایک فاتح جرنیل جب اپنی فوج لئے دشمن کے علاقہ کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور دشمن شکست پر شکست کھاتا چلا جاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے مقابلہ کو جاری رکھا تو میں اسے کلی طور پر ذلیل اور رسوا کر دوں گا اس وقت اگر دشمن صلح کی درخواست کرے تو اسلام کہتا ہے اس کے بعد تمہارے لئے لڑائی کرنا کسی صورت میں جائز نہیں اور خواہ تمہارے دلوں میں کتنا ہی جوش پیدا ہو تمہارا فرض ہے کہ لڑائی بند کر دو اور اگر جاری رکھو گے تو گنہگار ٹھہرو گے۔ایسے مواقع پر طبائع میں جس قدر جوش پیدا ہوتا ہے اس کا پتہ مندرجہ ذیل واقعہ سے لگ سکتا ہے۔رسول کریم صلی علیم ایک دفعہ صحابہ سمیت مدینہ سے مکہ کو عمرہ کے لئے تشریف لے گئے۔اہل مکہ اس وقت بالکل بے بس تھے۔ان کا لشکر تھوڑا تھا اور ان کے مددگار دور دور تھے۔اس کے علاوہ آپ کے پاس ایک ایسی حجت تھی کہ اگر اس وقت لڑائی ہو جاتی تو ساری دنیا اہل مکہ پر لعنت کرتی اور وہ یہ کہ آپ لڑائی کے لئے نہیں بلکہ عمرہ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔غرض مکہ والے مقابلہ کی تیاری کر رہے تھے اور آپ مکہ کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے کہ ایک مقام پر آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔صحابہ نے اس کو اٹھانا چاہا تو آپ نے انہیں روک دیا اور فرمایا جس خدا نے اصحاب الفیل کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا اسی خدا نے میری اس اونٹنی کو روکا ہے۔5 مطلب یہ کہ خدا نہیں چاہتا کہ دشمن سے لڑائی ہو۔ہمیں اس وقت بغیر عمرہ اور طواف کئے واپس چلے جانا چاہیئے۔صحابہ نے اس وقت بہت جوش دکھایا اور ان کی حالت اس قسم کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا اُن کی روحیں متزلزل ہو گئی ہیں۔حضرت عمر جیسا ایماندار انسان یہ دیکھ کر بے تاب ہو گیا اور انہوں نے رسول کریم صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کیا آپ کو یہ رویا نہیں ہوا تھا کہ ہم مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور ہم نے عمرہ کیا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ ہم نے فرمایا عمر خدا نے یہ کب کہا تھا کہ اسی سال یہ رویا پورا ہو گا۔جب وقت آئے گا خد اتعالیٰ ہمیں عمرے کا موقع دے دے گا مگر اب انہوں نے