خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 213

* 1940 213 خطبات محمود صلح کی درخواست کی ہے جسے ہم رد نہیں کر سکتے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم واپس چلے جائیں۔اسی طرح وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور انہوں نے بھی ایسا ہی جواب دیا۔6 غرض اسلام صبر کی دونوں حالتوں میں تلقین کرتا ہے۔اس وقت بھی جب دشمن کی طرف سے ظلم ہو رہا ہو اور اس وقت بھی جب انسان لڑائی کرتے ہوئے دشمن پر غالب آرہا ہو مگر وہ صلح کی درخواست کر دے۔ایسی حالت میں بھی اسلام یہی نصیحت کرتا ہے کہ صبر اور بر داشت سے کام لیتے ہوئے لڑائی کو فوراً بند کر دیا جائے اور دشمن سے انتقام لینے کے لئے اسے ذلیل اور رسوا نہ کیا جائے۔جہاد کے متعلق یہ اسلامی ہدایات اسی زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر جہاد فرض ہوتا ہے مگر بعض زمانے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں سالہا سال تک لڑائی جھگڑوں سے مجتنب رہنے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔چنانچہ صحیحی صفت انبیاء ایسے ہی ہوتے ہیں۔ان کے زمانہ میں کلی طور پر نسلوں کی نسلوں اور قوموں کی قوموں کو خاموشی سے دن گزارنے پڑتے ہیں جیسے حضرت مسیح ناصری کی امت نے سینکڑوں سال اسی حالت میں گزارے۔یہی حال اب ہمارا ہے۔چنانچہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور جنہیں آپ کی صحابیت کا شرف حاصل ہوا ان کا کثیر حصہ فوت ہو چکا ہے اور اب بہت ہی کم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ رہ گئے ہیں۔زیادہ تر ان لوگوں کی ہی تعداد ہے جو بعد میں پیدا ہوئے مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کثیر صحابہ فوت ہو چکے ہیں اور باوجود اس کے کہ اب کثرت اس نسل کی ہے جو بعد میں پیدا ہوئی ابھی ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ صبر کر و استقلال دکھاؤ اور گریہ وزاری اور دعاؤں سے کام لو کیونکہ ہماری کامیابی کا یہی رستہ ہے کہ ہم دعاؤں سے کام لیں، تلواروں کے ذریعہ ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی مگر ہماری جماعت کے سب لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور نہ سب اپنی کامیابی کے اس طریق پر یقین رکھتے ہیں۔میں تو دیکھتا ہوں جماعت کے بعض دوستوں کے دلوں میں یہ وسوسے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں کہ وہ حکومتیں نہیں آئیں، وہ طاقتیں نہیں آئیں