خطبات محمود (جلد 21) — Page 211
خطبات محمود 211 * 1940 پاک کرتا ہے، بیشک حج بھی انسانی روح کو پاک کرتا ہے ، بے شک زکوۃ بھی انسانی روح کو پاک کرتی ہے مگر روح کو مکمل پاک کرنے کے لئے نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ کے ساتھ صبر اور بر داشت کے مادہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک یہ نہ ہو انسانی روح پورے طور پر پاک نہیں ہو سکتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ انسانوں کو پاک کرنے کے یہ دونوں طریق رکھ دیئے۔چنانچہ ابتدائے اسلام میں ایک زمانہ تو وہ گزرا ہے جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اعلیٰ درجہ کی روحانی تکمیل کے لئے حکم دے دیا کہ ماریں کھاؤ اور صبر کرو، گالیاں سنو اور برداشت کرو مگر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب کفار کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات کی اجازت دے دی کہ تلوار کا تلوار سے مقابلہ کیا جائے۔تاکہ جرآت اور بہادری کے اخلاق بھی ان میں پیدا ہوں۔یہ وہ لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ کمال کے اعلیٰ درجہ تک پہنچانا چاہتا تھا اور اس نے ان امتحانوں میں سے گزار کر انہیں بہت بڑے روحانی مقامات عطا فرمائے۔اگر کہو کہ جب اسلام غالب آ گیا اور اس کی حکومت قائم ہو گئی تو پھر صبر کا نمونہ دکھانے کا کون سا موقع ہو گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو غلبہ کی صورت میں بھی خود اپنے لوگوں کے ساتھ معاملات میں صبر کے مواقع نکلتے رہتے ہیں لیکن اس کے علاوہ اسلام نے غلبہ کے وقت میں بھی لڑائیوں پر حد بندیاں لگاکر صبر اور برداشت کی طاقت پیدا کرنے کے سامان کر دیئے ہیں۔وہ مسلم کو حکم دیتا ہے کہ جب کوئی دشمن صلح کے لئے ہاتھ بڑھائے تو انکار نہ کرو۔4 اسی طرح لڑائی کے متعلق ایسے قواعد مقرر کیے ہیں جو انسان کو نفسانی غصہ نکالنے سے باز رکھتے ہیں۔اس کے بر خلاف اب جو لڑائیاں ہوتی ہیں وہ بالکل اور اصول پر لڑی جاتی ہیں۔مثلاً اب لڑائی میں جب کوئی فریق ہتھیار رکھ دیتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ جب تک تم بالکل ہمارے تابع نہ ہو جاؤ اس وقت تک لڑائی ہم تم سے بند نہیں کر سکتے۔جیسے جرمنی اور فرانس کے مقابلہ میں جب فرانس والوں نے کہا کہ ہم ہتھیار رکھتے ہیں ہم سے صلح کر لی جائے تو جرمنی نے کہا کہ ہر گز نہیں جب تک تم اپنے تمام ہتھیار اور سامان حرب ہمارے قبضہ میں نہ دے دو ہم تم سے لڑائی بند کرنے کے لئے تیار نہیں۔لیکن قرآن