خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 210

1940 210 خطبات محمود نہیں آئی کہ یہ تعلیم ہمارے کام نہیں آسکتی اس میں تبدیلی ہونی چاہیے جیسے گاندھی جی کی قوم نے ان سے کہہ دیا۔بھلا اس سے زیادہ ناکامی کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ساری عمر کی محنت، ساری عمر کی کوشش، ساری عمر کی جد وجہد اور ساری عمر کی تلقین اور تعلیم کے بعد اس کے اپنے اتباع، اس کے نائب اور اس کی قوم کے افراد اسے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم آپ کے اصول کو ہر حالت میں ماننے کے لئے تیار نہیں۔چاہے یہ مخالفت کتنے ہی نرم الفاظ میں کی جائے، چاہے کتنے ہی ریشمی کپڑوں میں لپیٹ کر کی جائے بہر حال یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے گاندھی جی سے کہہ دیا کہ ہم آپ کی یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں اور اس وجہ سے ہم آپ کو لیڈری سے سبکدوش کر کے خود اپنے ہاتھ میں تمام کام لیتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محمد رسول اللہ صلی لی ایم کی تعلیم کے جو معنے کئے تم بتاؤ کہ اسے کب منسوخ کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ وہ نہ آج سے دس سال پہلے منسوخ ہوئی نہ آج منسوخ ہے اور نہ آئندہ کبھی منسوخ ہو سکتی ہے۔کتنی صاف سیدھی واضح اور اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے کہ جب تم پر کوئی ظلم کرے تو اسے برداشت کرو اور برداشت کرتے چلے جاؤ مگر جب وہ تمہارے مذہب میں دست اندازی کرے اور جبر آ تمہارا مذہب تم سے چھڑانا چاہے اور ان اعمال میں دخل دے جو افراد کی مذہبی آزادی سے تعلق رکھتے ہیں تو اس وقت تمہارا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم کھڑے ہو جاؤ اور تلوار کا مقابلہ تلوار سے اور سختی کا مقابلہ سختی سے کرو۔مگر اسلام ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ انسان کی روح کبھی پاک نہیں ہو سکتی جب تک وہ قربانی اور صبر سے کام نہ لے۔بے شک تلوار کا چلانا انسان کو بہادر بنا سکتا ہے، بے شک تلوار کا چلانا دوسروں کو مرعوب کر سکتا ہے، بے شک تلوار کا چلانا انسان کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچا سکتا ہے جیسے ہٹلر اور مسولینی کا نام آج بچے بچے کی زبان پر ہے مگر تلوار کا چلانا انسانی روح کو پاک نہیں بنا سکتا۔اگر کسی کو روح کی پاکیزگی کی خواہش ہو تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ اپنے اندر صبر اور استقلال اور قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرے اور لوگوں کے مظالم کو خوشی سے برداشت کرے۔پس اگر خالی تلوار چلانا ہی رکھا جاتا تو روح کی پاکیزگی کا سامان بہت کمزور ہو جاتا۔بے شک نماز بھی انسانی روح کو پاک کرتی ہے، بے شک روزہ بھی انسانی روح کو