خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 204

$1940 204 خطبات محمود خیال کرتے ہیں کہ ساری دنیا مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتی ہے۔حالانکہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے لئے کچھ حصہ دنیا کا مغرب کی طرف منہ کرتا ہے اور کچھ حصہ دنیا کا مشرق کی طرف منہ کرتا ہے۔اسی طرح کچھ حصہ دنیا کا ایسا ہے جو جنوب کی طرف منہ کرتا ہے اور کچھ حصہ دنیا کا ایسا ہے جو شمال کی طرف منہ کرتا ہے۔یمن کے رہنے والے اور عدن میں بسنے والے جب نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ مغرب کی طرف منہ نہیں کرتے بلکہ خانہ کعبہ اور بیت اللہ سے اپنا تعلق رکھنے کے لئے شمال کی طرف منہ کرتے ہیں کیونکہ وہ جنوب میں رہتے ہیں۔اسی طرح شام، دمشق اور فلسطین کے لوگ جب نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ ہماری طرح مغرب کی طرف منہ نہیں کرتے اور اگر کریں تو ان کا منہ قبلہ کی طرف نہیں ہو گا۔اسی طرح وہ یمنیوں اور عدنیوں کی طرح شمال کی طرف منہ کر کے بھی نماز نہیں پڑھتے بلکہ وہ چونکہ مکہ سے شمال کی طرف رہتے ہیں اس لئے وہ جنوب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ایسے سینیا اور ایسٹ افریقہ کے لوگ جہاں ہمارے احمدی دوست بھی اکثر جاتے اور ملازمتیں یا تجارتیں وغیرہ کرتے ہیں ہماری طرح مغرب کی طرف منہ کر کے نماز نہیں پڑھتے۔وہ یمنیوں اور عدنیوں کی طرح شمال کی طرف بھی اپنا منہ نہیں کرتے۔وہ شامیوں، دمشقیوں اور فلسطینیوں کی طرح جنوب کی طرف منہ کر کے بھی نماز نہیں پڑھتے بلکہ وہ مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔اس لئے کہ وہ مکہ سے مغرب کی طرف رہتے ہیں۔پس ہم چار ملکوں کے لوگ چار مختلف جہات کی طرف منہ کرتے ہیں مگر ہم سب اس ایک بات میں متحد ہیں کہ ہمارا منہ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔جب ہم مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں تو ہمارا منہ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔جب یمنی اور عدنی شمال کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں تو ان کا منہ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔جب شامی ، دمشقی اور فلسطینی جنوب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں تو ان کا منہ قبلہ کی طرف ہو تا ہے اور جب ایسے سینیا، ایسٹ افریقہ اور نیروبی کے لوگ مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں تو ان کا منہ بھی قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔غرض مختلف ملکوں میں رہنے والے مختلف آدمیوں کے لئے خانہ کعبہ۔تعلق پیدا کرنے کے لئے مختلف رستے ہیں۔ہم اگر تعلق پیدا کرنا چاہیں تو ہمارا رستہ مغرب کی www۔