خطبات محمود (جلد 21) — Page 198
$1940 198 خطبات محمود ہی بچا سکتا ہے ایسی کمیٹیاں نہیں بچا سکتیں لیکن اگر ملکی فسادات کا خیال ہو تو حکومت اعلان کر چکی ہے کہ وہ اس کے متعلق انتظامات کر رہی ہے اور ہمیں اس کو موقع دینا چاہیئے کہ وہ اپنی نگرانی میں یہ کام کرے تا ملک میں فساد بڑھے نہیں لیکن اگر حکومت سستی کرے اور سوال بیرونی حملہ کا نہ ہو بلکہ اندرونی بدامنی، ڈاکے اور لوٹ مار کا ہو تو ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے باہمی جھگڑے اور اختلافات ایسے معاملات میں روک نہیں بن سکتے۔اگر فسادات، ڈاکے اور طوائف الملوکی کا وقت آئے تو ہم ہندوؤں، سکھوں، احرار بلکہ مصری جیسے لوگوں کی بھی اسی طرح حفاظت کریں گے جس طرح اپنی۔اپنی حفاظت کے لئے جو انتظامات کریں گے ویسے ہی ان کے لئے بھی کریں گے۔اس وقت ہمارے سامنے آریہ سکھ ، احراری یا مصری کا سوال نہیں ہو گا بلکہ انسانیت کا سوال ہو گا۔ہم ان کی اور ان کے بیوی بچوں کی حفاظت بھی اسی طرح کریں گے جس طرح اپنوں کی۔یہ تو آگے اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے کہ ہم ایسا کر بھی سکیں گے یا نہیں لیکن ہماری طرف سے کوشش یہی ہوگی کہ ہر ایک کی حفاظت کریں۔گھبرانے کی کوئی بات نہیں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کوشش کر رہی ہے اس لئے پہلے اسے موقع دینا چاہیئے۔ہاں اگر وہ شستی کرے تو پھر خود مل کر انتظام کرنا چاہئیے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصل حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔کوئی خواہ ہندو ہو یا سکھ یا غیر احمدی سب کو یہی سمجھ لینا چاہیئے کہ ایسے مصائب میں اللہ تعالیٰ ہی مدد گار ہو سکتا ہے۔اس لئے سب کو اسی کی طرف جھکنا چاہیے۔ہر شخص کو انفرادی طور پر پہلے اس کے حضور جھکنا چاہیے اور پھر متفقہ طور پر اور قومی رنگ میں کوئی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اگر دل خدا تعالیٰ کی طرف نہ جھکیں تو ہاتھ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے لیکن اگر دل خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائیں تو ہاتھ اگر کمزور بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو طاقت دے دے گا۔یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسے مصائب جو عالمگیر عذاب کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں انفرادی کوششوں سے دور نہیں ہوا کرتے۔انفرادی تکلیفوں میں انفرادی کو ششوں سے لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں اور اس میں کافر اور مومن کا بھی سوال نہیں ہوتا۔کوششوں سے کافر بھی جیت جاتے ہیں اور فاسق و فاجر بھی مگر جو مصائب خدا تعالیٰ کی طرف سے