خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 181

خطبات محمود 181 1940 حضرت لقمان کا ایک واقعہ مجھے یاد آگیا۔آپ ابھی بچے تھے کہ قید ہو گئے۔ڈا کو اٹھا کر کہیں لے گئے اور کسی امیر کے پاس بیچ دیا۔کہتے ہیں ان کے آقا نے ان کو نوکروں کے ساتھ باغ میں انگور توڑنے کے لئے بھیجا۔وہ توڑ کر لائے تو بہت ہی کم تھے۔آقا نے وجہ دریافت کی کہ اس قدر کم انگور کیوں اترے ہیں ؟ وہ سب بڑی عمر کے لوگ تھے اور حضرت لقمان کی عمر صرف اس وقت آٹھ دس سال کی تھی۔انہوں نے کہا آپ نے اس لڑکے کو ساتھ بھیج دیا تھا یہ بڑا بد معاش ہے۔ہم جو انگور توڑتے یہ کھا جاتا تھا۔حضرت لقمان گو بچے تھے مگر تھے ذہین۔آپ نے کہا کہ سب کو قے کرائی جائے تا معلوم ہو سکے کہ کس نے کھائے ہیں۔آقا نے ایسا ہی کیا تو ان سب کے معدوں سے انگور نکلے مگر حضرت لقمان کا معدہ بالکل خالی تھا۔اس وجہ سے آپ اپنے آقا کو بہت پیارے لگنے لگے اور وہ اپنے بیٹوں کی طرح آپ سے محبت کرنے لگا۔ایک دفعہ اس کے کسی گماشتے نے کہیں دور دراز سے اسے بے موسم کا خربوزہ بھیجا۔سر دے کا قاعدہ ہے کہ اگر وہ خراب ہو جائے تو شدید کڑوا ہوتا ہے۔آقا نے اس سر دے سے ایک کاش کائی اور حضرت لقمان کو محبت سے دی۔آپ نے اسے بڑے مزے سے کھایا۔آقا نے سمجھا بہت لذیذ ہے اور ایک اور دی۔آپ نے وہ بھی بڑے مزے لے لے کر کھائی اور اس نے ایک اور دی۔وہ بھی آپ نے اسی طرح کھائی۔اس پر آقا نے خیال کیا کہ ایسی اچھی چیز میں خود بھی کھاؤں۔اس نے اسے چکھا تو وہ سخت کڑوی تھی۔اس نے آپ سے کہا کہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ہے کہ یہ اس قدر کڑوی چیز ہے۔آپ نے کہا کہ اس سے زیادہ بے حیائی اور کیا ہو سکتی تھی کہ جس ہاتھ سے میں نے اتنی میٹھی کا شیں کھائی ہیں اس سے اگر دو تین کڑوئی کھانی پڑیں تو چلا اٹھتا۔پس اگر غیرتِ اسلامی نہ ہو ، دین کی محبت نہ ہو، تب بھی شریف آدمی کی حیثیت سے قادیان کے تاجروں کا یہ فرض تھا کہ جس کی طفیل وہ سال کے 350 دن کماتے ہیں اس کی خاطر پندرہ روز کی قربانی کا مطالبہ ہو تو پس و پیش نہ کریں۔قادیان کا کوئی ایک بھی تاجر ایسا نہیں جو گھر سے کھاتا پیتا آیا ہو۔سب کے سب ایسے ہیں جنہوں نے یہیں آکر کمائیاں کی ہیں۔بعض ان میں سے ایسے ہیں کہ جب یہاں آئے تو ان کی حیثیت پانچ سات روپیہ کی بھی نہ تھی۔بے شک