خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 169

* 1940 169 خطبات محمود کہ کسی پٹھان کے سامنے کسی نے سینہ پر ہاتھ باندھنے یا آمین بالجہر کہنے کا مسئلہ بیان کیا تو وہ کہنے لگا میں ان باتوں کو نہیں مانتا۔اس پر اس نے کہا کہ تم تو سید عبد القادر جیلانی کو مانتے ہو ریہ عقیدہ ان کا بھی تھا۔وہ کہنے لگا ہمارے پیر کا مذ ہب اور ہمارا مذ ہب اور۔تو ایک مسائل کا اختلاف ہوتا ہے اور ایک مقصود اور مدعا میں اختلاف ہوتا ہے۔مسائل میں بعض جگہ جبکہ شریعت اجازت دیتی ہو ایک حد تک پیر سے اختلاف جائز ہوتا ہے مگر مقصود اور مدعا میں اختلاف جائز نہیں ہو تا۔بعض نادان کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نواب محمد علی خان صاحب کو اجازت دی تھی کہ وہ اس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ حضرت علی حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے افضل تھے آپ کی بیعت کر سکتے ہیں اور اس سے استنباط کرتے ہیں کہ عقائد میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ یہ عقیدہ ایسا نہیں تھا جس کا موجودہ زمانہ سے کوئی تعلق ہو۔حضرت علی بھی فوت ہو چکے ہیں حضرت ابو بکر بھی فوت ہو چکے ہیں اور حضرت عمرؓ بھی فوت ہو چکے ہیں اور حضرت عثمان بھی فوت ہو چکے ہیں اور اب اس بحث کا کوئی فائدہ ہی نہیں کہ کون افضل ہے اور کون نہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ عقیدہ رکھنے کے باوجو د نواب صاحب کو بیعت کی اجازت دے دی مگر مقصود اور مدعا میں اختلاف کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اصل مقصد اسلام کی فتح تھی اب اگر کوئی کہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مرید تو ہوں مگر میرا مقصد اسلام کی فتح نہیں بلکہ عیسائیت کی فتح ہے تو اسے ہم الو ہی سمجھیں گے۔تو مقصود میں اختلاف کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو تا۔مسائل کا اختلاف بالکل اور چیز ہے اور اس کے متعلق بھی حد بندیاں ہیں کہ کس وقت وہ اختلاف جائز ہوتا ہے اور کس حد تک جائز ہوتا ہے مگر اب وقت نہیں کہ میں ان حد بندیوں کو بیان کر سکوں۔پس مسائل میں اختلاف اور بات ہے اور مقصود اور مدعا میں اختلاف بالکل اور بات ہے۔اور اگر کوئی شخص مقصود اور مدعا میں اختلاف رکھتا ہو تو وہ ہر گز مرید کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو یہ امر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ