خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 156

1940 156 خطبات محمود ایک حصہ درست ہو کر بھی ایسا ہوتا ہے جسے ہندوستانی سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔ابھی چند دن ہوئے میرا ایک عزیز جو وقف کنندہ بھی ہے گھر پر آیا اور کہنے لگا کہ کیلے بھی فتح ہو گیا۔میں نے کہا گیلے تو اب تک فتح نہیں ہوا۔کہنے لگا جر من براڈ کاسٹ میں خبر آگئی ہے کہ گیلے کو جرمنوں نے فتح کر لیا ہے۔میں نے کہا جر من براڈ کاسٹ میں بے شک یہ خبر آچکی ہے مگر ابھی تک بر طانیہ اور فرانس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔وہ کہنے لگا ان کا کیا ہے یہ تو اپنی شکست کا کبھی اعتراف ہی نہیں کرتے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ گیلے آج تک بھی فتح نہیں ہوا۔یہ محض اس کی جہالت تھی جسے اس نے دوسرے کی طرف منسوب کر دیا۔اصل بات یہ ہے کہ جنگی اطلاعات دینے میں یہ قاعدہ ہوا کرتا ہے کہ حملہ آور قوم جب کسی شہر کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے تو وہ اعلان کر دیتی ہے کہ اس نے وہ شہر فتح کر لیا مگر دوسری قوم جو لڑ رہی ہوتی ہے وہ اپنی شکست کا اعتراف نہیں کرتی کیونکہ وہ ابھی لڑ رہی ہوتی ہے اور سمجھتی ہے کہ آج اگر دشمن اس شہر کی حدود میں داخل ہو گیا ہے تو ممکن ہے کل ہم اسے مار کر باہر نکال دیں۔پس جنگی اطلاعات کے قواعد کے رو سے دونوں باتیں صحیح ہوتی ہیں۔حملہ آور قوم جب کہتی ہے کہ اس نے فلاں شہر فتح کر لیا تو وہ بھی درست کہتی ہے کیونکہ جب کوئی قوم مضافات پر قابض ہو جاتی ہے تو اس کا اس شہر پر ایک حد تک قبضہ ہو چکا ہو تا ہے۔مگر وہ قوم جو مقابلہ کر رہی ہوتی ہے اس کے نقطۂ نگاہ سے ابھی وہ شہر اس کے اپنے قبضہ میں ہے کیونکہ کئی دفعہ مضافات لے کر بھی حملہ آور پسپا ہو جاتا ہے۔تو گیلے کو جر منی اب تک پوری طرح فتح نہیں کر سکا۔اسی طرح ڈنکرک 2 (DUNKIRK) کے مضافات پر پہلے جرمنی نے قبضہ کیا حتی کہ برطانیہ و فرانس نے بھی اس کو تسلیم کر لیا مگر پھر انہیں آگے بڑھنے کا موقع مل گیا اور ان کی فوجیں ڈنکرک پر قابض ہو گئیں اور اب وہ اس بند گارہ کے ذریعہ سے اپنی افواج واپس لا رہے ہیں۔تو قاعدہ یہ ہے کہ حملہ آور قوم جب مضافات لے لیتی ہے تو وہ شہر کی فتح کا اعلان کر دیتی ہے مگر جو فوج اس شہر کی گلیوں میں لڑ رہی ہوتی ہے وہ کہتی ہے کہ ابھی یہ شہر کہاں فتح ہوا۔ممکن ہے کل ہی کوئی چانس مل جائے اور ہم پھر ان کے قبضہ کو توڑ دیں۔اس لئے گو حملہ آور