خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 153

$1940 153 خطبات محمود یہاں کے ہندوؤں کا بعض باتوں میں اختلاف ہو گیا اور بعض ہندوؤں نے فساد کی نیت سے اپنی چھابڑیاں اٹھا کر پھینک دیں اور یہ مشتہر کر دیا کہ احمدیوں نے انہیں لوٹ لیا ہے۔اس پر افسر آئے اور انہوں نے تحقیقات کی جس پر یہ بات غلط ثابت ہوئی مگر ابھی یہ بد مزگی جاری تھی کہ ایک دن جبکہ میں اپنے کوٹھے پر بیٹھا ہوا تھا مجھے گلی میں سے شور کی آواز آئی جیسے زور سے لوگوں کے دوڑنے کی آواز آتی ہے۔میں نے یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوا گلی کی طرف جھانکا تو میں نے دیکھا کہ دو تین نوجوان بھاگے جارہے ہیں اور سب سے آگے مولوی رحمت علی صاحب ہیں جو آب مبلغ سماٹرا اور جاوا ہیں اور آجکل قادیان آئے ہوئے ہیں۔ان دنوں یہ طالب علم تھے۔میں نے زور سے کہا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگے خبر آئی ہے کہ نیر صاحب کو ہندوؤں نے بازار میں قتل کر دیا ہے اور بعض اور احمدی زخمی تڑپ رہے ہیں۔نیر صاحب ان دنوں غالباً بورڈنگ کے سپر نٹنڈنٹ تھے یا سکول میں مدرس۔میں بھی آخر قادیان کا ہی رہنے والا تھا اور میں یہاں کے ہندوؤں کو جانتا تھا۔میں سمجھتا تھا کہ چاہے انہیں ہمارے خلاف کتنا ہی جوش کیوں نہ ہو اب تک وہ اس حد تک نہیں پہنچے کہ ہم میں سے کسی کو قتل کر دیں۔چنانچہ میں نے انہیں کہا ٹھہر و یہ بات غلط معلوم ہوتی ہے۔وہ کہنے لگے نہیں ابھی خبر آئی ہے کہ نیر صاحب مارے گئے ہیں اور کئی احمدی زخمی تڑپ رہے ہیں۔میں نے کہا میں اس کی تحقیقات کراؤں گا۔تم اس طرف مت جاؤ۔اتنے میں میں نے دیکھا قاضی عبد اللہ صاحب وہاں سے گزر رہے ہیں۔میں نے کہا قاضی صاحب آپ ذرا بازار میں تشریف لے جائیں اور مجھے رپورٹ کریں کہ وہاں کوئی فساد ہوا ہے یا نہیں ؟ چنانچہ اس طرح انہیں اطمینان دلا کر میں کمرہ میں ٹہلنے لگ گیا کہ اتنے میں پھر مجھے زور سے قدموں کی آواز آئی اور میں نے دیکھا کہ مولوی رحمت علی صاحب اور دوسرے نوجوان پھر بے تحاشا بازار کی طرف دوڑ پڑے ہیں۔میں نے کہا مولوی رحمت علی ٹھہر و۔مگر انہوں نے میری آواز کو نہ سنا۔میں نے انہیں پھر آواز دی اور کہا ٹھہرو مگر وہ پھر بھی نہ رکے یہاں تک کہ وہ اس موڑ تک پہنچ گئے جو مسجد اقصیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔میں نے اس وقت سمجھا کہ اب اگر ذرا بھی اور دیر ہوئی اور یہ موڑ سے دوسری طرف ہو گئے تو میری نگاہ سے اوجھل ہو جائیں گے اور پھر میرا ان پر کوئی اختیار نہیں رہے گا اور انہوں نے