خطبات محمود (جلد 21) — Page 141
* 1940 141 خطبات محمود تم نے کیوں رکھا ؟ تو ہماری شریعت میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات بعض باتیں جائز ہوتی ہیں مگر وہی باتیں دوسرے وقت میں ناجائز ہوتی ہیں مگر وہی باتیں دوسرے وقت میں جائز بلکہ بعض دفعہ فرض ہو جاتی ہیں۔جیسے روزہ حرام ہے عید کے دن، روزہ جائز ہے گیارہ مہینے اور روزہ فرض ہے رمضان میں۔اسی طرح نماز حرام ہے جب سورج نکل رہا ہو ، نماز حرام ہے جب سورج سر پر ہو ، نماز حرام ہے جب سورج ڈوب رہا ہو۔مگر نماز جائز ہے اشراق سے لے کر اس وقت تک کہ سورج نصف النہار تک پہنچنے والا ہو ، نماز جائز ہے ظہر اور عصر کے درمیان، نماز جائز ہے مغرب اور عشاء کے درمیان، نماز جائز ہے عشاء اور فجر کے درمیان اور نماز جائز ہے صبح صادق سے لے کر نماز صبح تک۔لیکن یہی نماز فرض ہے صبح کے وقت، نماز فرض ہے ظہر کے وقت ، نماز فرض ہے عصر کے وقت، نماز فرض ہے مغرب کے وقت اور نماز فرض ہے عشاء کے وقت۔ان دونوں مثالوں میں دیکھ لو بعض صورتوں میں ایک چیز جائز ہے، بعض صورتوں میں فرض ہے اور بعض صورتوں میں بالکل حرام ہے۔اسی طرح تلوار کا جہاد حرام ہے جب اس کی شرائط نہ پائی جاتی ہوں اور یقینا ایسی صورت میں ہم اس کے متعلق حرام کا لفظ ہی استعمال کریں گے مگر جب پھر کسی زمانہ میں وہ شرائط پائی جائیں تو وہی حرام چیز نہ صرف حلال بلکہ فرض ہو جائے گی۔تو تلوار کے جہاد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اِس زمانہ کے حالات کے ماتحت شرعی احکام کے مطابق حرام قرار دیا ہے۔پس یہ جہاد تو یوں حرام ہو گیا۔اب رہ گیا دوسرا جہاد جو تبلیغ اسلام کا ہے سو وہ یقینا ایسا جہاد ہے جو ہماری جماعت کے ہر فرد پر فرض ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبلیغی جہاد جس میں ہماری جماعت کے ہر فرد کا حصہ لینا ضروری ہے اس کو ہماری جماعت کس طرح سر انجام دے رہی ہے۔تم کہہ سکتے ہو کہ ہم چندہ دیتے ہیں، چندے سے کتابیں چھپتی ہیں اور کتابوں سے تبلیغ ہوتی ہے مگر اس طرح تو صحابہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ہم روپیہ دیتے ہیں، روپیہ سے سپاہی تیار ہوتے ہیں اور سپاہی ہم سب کی طرف سے جہاد کرتے ہیں مگر کیا ان میں سے ایک صحابی نے بھی کبھی ایسا کہا؟ اور کیا اس جواب کے بعد وہ مومن سمجھا جاسکتا تھا؟ بے شک بعض حالات میں یہ جائز ہوتا ہے کہ انسان اپنی طرف سے دوسرے کو جہاد کے لئے بھیج دے