خطبات محمود (جلد 21) — Page 140
* 1940 140 خطبات محمود جہاد کا وقت نہیں بلکہ تبلیغ اسلام کے جہاد کا وقت ہے۔مگر ہماری جماعت نے ایک طرف تو یہ کہہ دیا اور اس نے اپنے پاس سے نہیں کہا بلکہ خدا اور اس کے رسول کے حکم کے ماتحت کہا کہ وہ جہاد جو تلوار کا تھا اس زمانہ میں منسوخ ہو چکا ہے۔گویا اس جہاد سے ہم اس طرح سبکدوش ہو گئے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول نے اس زمانہ میں یہ جہاد منسوخ کر دیا ہے کیونکہ اس زمانہ میں وہ حالات موجود نہیں جن حالات کے ماتحت تلوار کا جہاد مومنوں پر فرض ہوا کرتا ہے۔جب دوبارہ وہ حالات پیدا ہو گئے تو پھر نئے سرے سے یہ جہاد مسلمانوں پر فرض ہو جائے گا کیونکہ وہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے جسے عارضی طور پر ملتوی تو کیا جا سکتا ہے اور ایک زمانہ کے لئے وہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کے تحت منسوخ تو ہو سکتا ہے مگر کلی طور پر نہیں مٹ سکتا۔کیونکہ قرآن کریم کی کوئی تعلیم ایسی نہیں جو ہمیشہ کے لئے متروک اور نا قابلِ عمل قرار دی جاسکے۔قرآن کریم نے ہمیں جس قدیر تعلیمیں دی ہیں وہ دو قسم کی ہیں۔بعض تعلیمیں تو ایسی ہیں جو ہر زمانہ میں قائم رہتی ہیں اور بعض تعلیمیں ایسی ہیں جو وقتا فوقتا جاری ہوتی ہیں۔یہ تعلیم بھی جو تلوار کے جہاد کے ساتھ تعلق رکھتی ہے انہی تعلیموں میں سے ہے جو وقتا فوقتا جاری ہوتی ہیں اور اس کی ہماری شریعت میں اور بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔بعض نادان یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جہاد کے متعلق حرام کا لفظ کیوں استعمال فرمایا؟ چنانچہ حال ہی میں ایک شخص کا میں نے یہ اعتراض دیکھا ہے کہ جب یہ جہاد حالات کے بدلنے پر جائز ہے تو پھر موجودہ زمانہ میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حرام کیوں قرار دیا؟ حرام تو وہی چیز ہوا کرتی ہے جو ہمیشہ کے لئے حرام ہو۔مگر یہ بالکل بیہودہ اور لغو بات ہے۔نماز حرام ہے جب سورج نکل رہا ہو ، نماز حرام ہے جب سورج سر پر ہو، نماز حرام ہے جب سورج ڈوب رہا ہو مگر کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ نماز بالکل حرام ہے اور ہمیشہ کے لئے اس کا پڑھنانا جائز ہے ؟ اسی طرح روزہ حرام ہے عید کے دن۔مگر کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ روزہ ہمیشہ کے لئے حرام ہے اور کیا دوسرے وقتوں میں اگر کوئی روزہ رکھے تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ جب عید کے دن روزہ حرام تھا تو بعد میں