خطبات محمود (جلد 21) — Page 131
$1940 131 خطبات محمود اصل ٹھوکر کا موجب یہی بات ہوئی ہے۔انہوں نے بیان کیا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ حضرت صاحب ناراض ہیں تو میں نے دو تین بار یہ دریافت کرایا کہ ناراضگی کا باعث کیا ہے ؟ تو معلوم ہوا کہ میرے جو مضامین فاروق میں شائع ہوتے ہیں ان کی وجہ سے ناراض ہیں۔اور بھی کئی شخص میں نے دیکھے ہیں کہ جن کو اسی بات سے ٹھو کر لگی کہ وہ سمجھتے ہم تائید کر رہے ہیں اور میں اسے ناپسند کرتا۔ایسی تائید جو غلط طریق سے ہو وہ مجھے کبھی پسند نہیں آئی اور میں کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اس رنگ میں میری مدد کی جائے اور کوئی انسان مدد کر بھی کیا سکتا ہے اگر خد اتعالیٰ ناراض ہو جائے۔اصل جواب دہی تو خدا تعالیٰ کے سامنے کرنی ہوتی ہے۔اگر اسلام، احمدیت اور اخلاق جاتے رہیں تو خواہ کروڑوں مضامین لکھے جائیں ان کی قیمت اتنی بھی نہیں جتنی ان کاغذوں کی جن پر وہ لکھے جاتے ہیں۔پس میں دوستوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ جو مضمون بھی لکھیں نرمی اور محبت سے لکھیں۔یہ صحیح ہے کہ جہاں کوئی تلخ مضمون آئے گا اس کی کچھ نہ کچھ تلخی تو باقی رہے گی لیکن جہاں تک ہو سکے الفاظ نرم استعمال کرنے چاہئیں۔مثلاً کسی نے چوری کی ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ اس نے فلاں چیز بلا اجازت اٹھالی ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ چور ہے تو اس بات میں تلخی ضرور پیدا ہو جائے گی اس لئے ایسی بات کو بھی نرم الفاظ میں ادا کرنا چاہیئے۔میں مانتا ہوں کہ پیغامیوں کی طرف سے ہمیشہ سختی کی جاتی ہے اس لئے بعض دوست جواب میں سختی سے کام لیتے ہیں مگر مجھے یہ طریق سخت نا پسند ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ شدید سے شدید دشمن کے متعلق بھی سخت کلامی مجھے پسند نہیں۔میرے نزدیک مولوی ثناء اللہ صاحب ہمارے اشد ترین دشمن ہیں مگر میں نے کئی بار دل میں غور کیا ہے ان کے متعلق بھی اپنے دل میں کبھی بغض نہیں پایا اور میں سمجھتا ہوں اگر کسی دشمن کے متعلق دل میں بغض رکھا جائے تو اس سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟ سوائے اس کے کہ میرا دل کالا ہو۔ہر شخص کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔اگر کسی کو سزا دینی ہے تو اس نے اور اگر کسی کو بخشا ہے تو اس نے۔میں کیوں اپنے دل میں بغض رکھ کر اسے سیاہ کروں۔پس دل میں بغض اور کینہ رکھ کر کام نہ کرو بلکہ محبت و اخلاص رکھ کر کرو۔جوش اور اخلاص کے ساتھ ضروری نہیں کہ کینہ شامل ہو۔