خطبات محمود (جلد 21) — Page 110
$1940 110 خطبات محمود نہ صرف ان کو حصہ ملتا ہے بلکہ شاید انہوں نے اپنے بیوی بچوں کے حق میں بھی اس کی وصیت کر دی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ سلسلہ کے ایک مال پر تصرف کرنے کا مولوی محمد علی صاحب کو کہاں سے حق حاصل ہو گیا؟ اور یہ کہاں کا تقویٰ ہے کہ ایک ترجمہ وہ صدر انجمن احمدیہ سے سالہا سال تک تنخواہ وصول کر کے کریں اور پھر وہ ان کی ذاتی ملکیت بن جائے۔وہ ہم پر ہزاروں قسم کے اعتراضات کرتے ہیں وہ ہماری مخفی زندگی کے عیوب بھی تلاش کر کر کے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں جو بات ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بالکل کھلی اور واضح ہے وہ کسی مخفی زندگی کے متعلق نہیں بلکہ ایک ایسی بات ہے جو رجسٹروں میں آچکی ہے، جو پبلک کے سامنے پیش ہو چکی ہے۔پس وہ بتائیں کہ سلسلہ احمدیہ نے ترجمۂ قرآن پر اپنا جو روپیہ خرچ کیا تھا اس کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کو یہ کہاں سے حق حاصل تھا کہ وہ اس کو اپنی ذاتی جائداد تصور کر لیتے ؟ بعض پیغامی اس کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ اس روپیہ میں جو مولوی محمد علی صاحب کو بطور تنخواہ ملا کرتا تھا ہمارا چندہ بھی شامل تھا اور اس وجہ سے ہم نے علیحدگی پر ضروری سمجھا کہ اپنے چندہ کے معاوضہ کے طور پر ترجمہ قرآن کو بھی ساتھ لیتے آئیں کیونکہ جو روپیہ اس پر خرچ ہوا اس میں ہمارا بھی حصہ تھا حالانکہ اول تو اصولاً یہ بات ہی غلط ہے کہ جس کے ہاتھ کوئی چیز لگے وہ اس بہانہ کی آڑ لے کر اسے ہتھیا لے کہ چونکہ میں بھی چندہ دیا کرتا تھا اس لئے میرے لئے جائز ہے کہ میں یہ چیز اپنے گھر لے جاؤ لیکن اگر یہ اصول درست ہے تو کیا وہ پسند کریں گے کہ جو لوگ ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور جو اس زمانہ میں جبکہ وہ ان کے ساتھ شامل تھے انہیں سینکڑوں روپے بطور چندہ دیتے رہے ہیں وہ اب ان کی انجمن کی چیزیں اٹھا کر لے آئیں اور دلیل یہ دیں کہ چونکہ ہم غیر مبائعین کو ایک زمانہ میں کافی چندہ دیتے رہے ہیں اور ان چیزوں پر ہمارا چندہ بھی خرچ ہوا ہے اس لئے ہمیں حق حاصل ہے کہ ان میں سے ہمیں جو چیز پسند آئے وہ اٹھالے جائیں۔مثلاً لاہور میں ہی پندرہ میں احمدی غیر مبائعین میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔میں نے ایک پچھلے خطبہ میں ہی ان میں سے بعض کے نام بھی لئے تھے جیسے ملک غلام محمد صاحب ہیں۔اسی طرح ملک غلام محمد صاحب کے تین جوان لڑکے ان کے ساتھ شامل رہے ہیں۔پھر ڈاکٹر غلام حیدر صاحب بھی