خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 109

1940 109 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت ضروری تھی کیونکہ اس اعلان میں یہ بھی درج ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا فرمان ہمارے لئے آئندہ ایسا ہی ہو گا جیسے حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کا فرمان ہوا کرتا تھا۔پس ان سے پوچھنا چاہیئے کہ “ الوصیت ” کے ہمیں وہ الفاظ دکھلائیں اور پھر ان سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ اب ہمیں “الوصیت ” سے وہ دوسرے احکام علیہا دکھاؤ جن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد پہلا حکم منسوخ ہو جائے گا۔دوسری بات جو ان کے سامنے پیش کرنی چاہیئے اور جس کے متعلق ان کا دعویٰ بھی سب سے زیادہ ہے وہ قرآن شریف کا ترجمہ ہے اور ان لوگوں کو ہمارے مقابلہ میں سب سے زیادہ اگر کسی بات کا دعویٰ ہے تو وہ یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے قرآن شریف کا ترجمہ کیا ہے حالانکہ قرآن کا یہ ترجمہ انجمن کے روپیہ اور ان تنخواہوں کو وصول کر کے کیا گیا ہے جو سلسلہ کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو دی جاتی تھی پھر سلسلہ کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو صرف تنخواہ ہی نہیں ملتی تھی بلکہ پہاڑ پر جانے کے اخراجات بھی انہیں ملتے تھے اور پھر تنخواہ اور پہاڑ پر جانے کے اخراجات ہی مولوی محمد علی صاحب کو نہیں دیئے جاتے تھے بلکہ ہزاروں روپیہ کی کتب بھی سلسلہ کی طرف سے ان کو منگا کر دی گئیں تاکہ وہ ان کی مدد سے ترجمہ تیار کر سکیں اور جیسا کہ اس وقت کے اخبارات سے معلوم ہوتا ہے ترجمہ اور قرآن کریم کے نوٹس قریباً مکمل ہو چکے تھے کیونکہ اس کی اشاعت کے لئے چندہ کی تحریک شروع کر دی گئی تھی۔پس قریباً تمام کا تمام ترجمہ اور تفسیر وہی ہے جو صدر انجمن احمدیہ سے کئی سال تک تنخواہیں وصول کرنے اور ہزاروں روپیہ کتب پر صرف کرانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے کیا۔بعد میں سوائے اس کے کہ انہوں نے کچھ پالش کر دی ہو اور کچھ نہیں کیا۔ترجمہ اور تفسیر کا کام در حقیقت حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی ختم ہو چکا تھا۔بعد میں صرف چند مہینے انہوں نے کام کیا ہے۔شاید دو یا چار مہینے ورنہ اصل کام جس قدر تھا وہ اس سے پہلے ختم ہو چکا تھا اور چار سال تک مولوی محمد علی صاحب کو اس کے عوض صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے تنخواہ ملتی رہی تھی پس یہ ترجمہ صدرا انجمن احمد یہ کا تھا اور صدر انجمن احمد یہ ہی اس کی مالک تھی مگر اب یہ ترجمہ مولوی محمد علی صاحب کی ذاتی ملکیت بن چکا ہے اور اس کی آمد میں سے