خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 64

خطبات محمود 64 1940 جب محمد رسول اللہ صلی العلیکم دنیا کے پاس صداقت کا پیغام لے کر آئے، جب عرب کے ایک شریف خاندان مگر دنیوی حیثیت کے لحاظ سے نہایت ہی غریب خاندان کے ایک نوجوان نے جس کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے اور جس نے اپنے چچا کے گھر میں پرورش پائی تھی یہ اعلان کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے نبی بنا کر بھیجا ہے اور نبی بھی وہ جو سب نبیوں کا سردار ہے تو یہود نے اس وقت اسے کتنی حقارت کی نظر سے دیکھا اور کہا کہ بھلا یہ موسیٰ کی خوبیوں تک پہنچ سکتا ہے ؟ عیسائیوں نے بھی اسے حقارت سے دیکھا اور کہا کہ یہ عیسی کا سر دار کس طرح ہو سکتا ہے ؟ یہی حال دوسری قوموں کا بھی تھا۔انہوں نے بھی اسے حقارت کی نظر سے دیکھا اور یہی خیال کیا کہ یہ ابراہیم ، اسماعیل، موسیٰ اور عیسی (علیہم السلام) کا سر دار کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ ایک طرف ان نبیوں کے اس زمانہ کے بلند مرتبہ کو دیکھتے اور دوسری طرف رسول کریم صلی الل علم کی کسمپرسی کو۔لیکن یہ خیال نہ کرتے تھے کہ موسیٰ موسیٰ بننے سے قبل کیا حیثیت رکھتا تھا؟ کیا موسیٰ ابتداء میں اپنی قوم کے مظالم سے تنگ آکر بھاگا نہ تھا؟ کیا اسے ابتدائی ایام میں فرعون کی روٹیوں پر بسر نہ کرنی پڑی تھی ؟ کیا عیسی ایک بڑھئی کا بیٹا نہ تھا جسے شاید بچپن میں لوگوں کی پیڑھیاں اور چار پائیاں ٹھونکنی پڑی ہوں ؟ پھر کیا ابراہیم ایک ایسے تاجر کا بیٹا نہ تھا جو بت بیچا کرتا تھا؟ وہ ان سب نبیوں کی ابتدائی حالت کو بھول جاتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علم کی اس گھڑی کو دیکھتے تھے جب وہ ایک یتیم کی حیثیت میں اپنے چچا کے گھر میں پلتے تھے۔وہ عیسی کی تو دعوی سے پانچ سو سال بعد کی حالت کو دیکھتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی ا ظلم کی پیدائش کے سال کو وہ موسیٰ اور ابراہیم کی پیدائش کے زمانہ کو بھول کر ان کی جوانی کو دیکھتے تھے مگر آنحضرت صلی اللی علم کی پیدائش کو۔اور وہ یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ بچپن اور جوانی میں کتنا فرق ہے۔ایک بچہ خواہ وہ رستم دیار ہی کیوں نہ ہونے والا ہو، ایک جوان کوڑھی سے بہر حال کمزور ہوتا ہے کیونکہ ابھی وہ بچہ ہوتا ہے اور اس کی طاقت کا زمانہ ابھی شروع نہیں ہوا ہو تا۔تو مکہ کے لوگ آنحضرت صلی اللہ نام کی ابتدائی حالت سے اُس وقت اندازہ کر رہے تھے اس لئے اُن کو آپ کمزور نظر آتے تھے لیکن آج اگر مکہ کے ان لوگوں کو واپس دنیا میں آنے کا موقع ملے اور ان یہودیوں کو دنیا میں لایا جائے تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ محمد رسول اللہ صلی لی ہم کو