خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 61

$1940 61 خطبات محمود باقی غیر مامور کو تو خواہ پتہ بھی نہ ہو کہ وہ پیشگوئی اس کی ذات میں پوری ہو گئی کوئی حرج کی بات نہیں۔امت مسلمہ میں مجددین کی جو فہرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دکھانے کے بعد شائع ہوئی ہے ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہو ؟ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے تو اور نگ زیب بھی اپنے زمانہ کا مجد د نظر آتا ہے۔مگر کیا اس نے کوئی دعویٰ کیا ؟ عمر بن عبد العزیز کو مجدد کہا جاتا ہے کیا ان کا کوئی دعویٰ ہے ؟ پس غیر مامور کے لئے دعویٰ ضروری نہیں۔دعویٰ صرف مامورین کے متعلق پیشگوئیوں میں ضروری ہے۔غیر مامور کے صرف کام کو دیکھنا چاہئے۔اگر کام پورا ہو تا نظر آجائے تو پھر اس کے دعوی کی کیا ضرورت ہے؟ اس صورت میں تو وہ انکار بھی کرتا جائے تو ہم کہیں گے کہ وہی اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔اگر عمر بن عبد العزیز مجد د ہونے سے انکار بھی کرتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے زمانہ کے مجدد ہیں کیونکہ مجدد کے لئے کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں۔دعویٰ صرف ان مسجد دین کے لئے ضروری ہے جو مامور ہوں۔ہاں جو غیر مامور اپنے زمانہ میں گرتے ہوئے اسلام کو کھڑا کرے، دشمن کے حملوں کو توڑ دے اسے چاہے پتہ بھی نہ ہو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجدد ہے۔ہاں مامور مجد دوہی ہو سکتا ہے جو دعویٰ کرے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا۔پس میری طرف سے مصلح موعود ہونے کے دعویٰ کی کوئی ضرورت نہیں اور مخالفوں کی ایسی باتوں سے گھبراہٹ کی بھی ضرورت نہیں۔اس میں کوئی ہتک کی بات نہیں۔اصل عزت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔چاہے دنیا کی نظروں میں انسان ذلیل سمجھا جائے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے رستہ پر چلے تو اس کی درگاہ میں وہ ضرور معزز ہو گا۔اور اگر کوئی شخص جھوٹ سے کام لے کر اپنے غلط دعویٰ کو ثابت بھی کر دے اور اپنی چستی یا چالا کی سے لوگوں میں غلبہ بھی حاصل کر لے تو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں وہ عزت حاصل نہیں کر سکتا۔اور جسے خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت حاصل نہیں وہ خواہ ظاہری لحاظ سے کتنا معزز کیوں نہ سمجھا جائے اس نے کچھ کھویا ہی ہے حاصل نہیں کیا اور آخر ایک دن وہ ذلیل ہو کر رہے گا۔پس دینی و دنیوی کاموں میں ہمیشہ سچ کو اختیار کرو۔جو شخص سچ کے لئے نقصان اٹھاتا