خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 51

1940 51 خطبات محمود کنال دو کنال کا ٹکڑا ہوتا ہے جہاں زمین کے اندر پانی کی دھاریاں اس طرح چلتی ہیں کہ وہ علاقہ سر سبز رہتا ہے، بدوی وہاں رہائش رکھتے ہیں۔اس شخص نے بیان کیا کہ جب وہاں پہنچا تو ایک بدوی بیٹھا تھا۔اس نے تربوز بوئے ہوئے تھے۔ایسی جگہوں میں بدو لوگ ایسی چیزیں ہی ہوتے ہیں جو دور شہر میں لے جاکر فروخت کی جاسکیں اور جلدی گل سڑ نہ جائیں۔یہ شخص وہاں پہنچتے ہی گر گیا اور اشارہ سے کہا کہ مجھے کچھ کھانے کو دو۔بدوی کے پاس اور کچھ کھانے کو تو تھا نہیں بکریوں کا دودھ تھا جو اس نے اسے پلایا۔اس کے بعد اس خیال سے کہ یہ دودھ سیال چیز ہے کوئی ٹھوس چیز بھی اسے کھلانی چاہیئے وہ تربوزوں میں داخل ہوا اور کئی تربوز توڑ توڑ کر پھینکتا گیا کیونکہ وہ ابھی پکے نہ تھے۔آخر ایک پکا ہوا تربوز تلاش کر کے اسے کھلایا اور اس کے بعد تلوار نکال کر کھڑا ہو گیا۔یہ شخص بہت حیران ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔بدونے کہا کپڑے اتارو اور کرتہ وغیرہ اتروا کر اچھی طرح اطمینان کر لیا کہ پاس کوئی چیز ہے تو نہیں اور پھر کہنے لگا کہ یہ تربوز جو میں نے تمہاری خاطر توڑ کر پھینک دیئے ہیں میرے بیوی بچوں کی سال بھر کی غذا تھی۔دراصل وہ لوگ گزارہ تو دودھ وغیرہ پر ہی کر لیتے ہیں اور یہ تربوز وغیرہ شہر میں لے جا کر فروخت کر کے کچھ پیسے بالائی ضروریات کے لئے حاصل کر لیتے ہیں۔بدوی نے اس سے کہا کہ جب تم میرے پاس آگئے تو یہ بات میری مہمان نوازی کی شان کے خلاف تھی کہ میں پہلے تم سے کچھ پوچھتا۔لیکن اب اگر معلوم ہو جاتا کہ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے اور تمہارے پاس مال ہے تو میں تمہیں ضرور مار ڈالتا۔میں نے اپنے تمام تر بوز تمہاری خاطر اُجاڑ دیئے ہیں اور بظاہر اب میرے بیوی بچوں کے لئے موت ہے۔تو گو وہ لوگ قاتل تھے، شرابی اور زانی تھے مگر سچائی اور مہمان نوازی ان میں عام تھی۔دیکھور سول کریم صلی ال نیم کے متعلق قیصر کے سامنے ابوسفیان نے کس طرح سچی شہادت دے دی۔باوجودیکہ وہ اُس وقت کا فر تھے۔گو وہ کہتے ہیں کہ اگر میرا بس چلتا تو میں جھوٹ بھی بول دیتا مگر پیچھے قوم کے دوسرے لوگ کھڑے تھے اور میں سمجھتا تھا اگر میں نے جھوٹ بولا تو یہ لوگ فوراً میری تردید کر دیں گے مگر اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بہ حیثیت قوم وہ لوگ سچے تھے۔wwwwwwwww