خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 462

$1940 461 خطبات محمود یورپ اور امریکہ کے لوگوں نے تسلیم کیا کہ سر سلیمان کی رائے صحیح تھی۔آئن سٹائن اس وقت سائنس کے میدان میں حکومت کرتا ہے اور جب سے دنیا پید اہوئی ہے بہترین دماغوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔یورپ والے آج تک نیوٹن کو سب سے بڑا حساب دان مانتے آئے ہیں مگر اب بعض کا خیال ہے کہ آئن سٹائن اس سے بڑھ گیا ہے۔لیکن سر سلیمان نے جن کا پیشہ نجی ہے اس کے نظریوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔اگر ایسا شخص ہندوؤں میں ہو تا تو معلوم نہیں وہ اس کو کتنی شہرت دیتے۔مگر مسلمانوں نے اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی۔مجھے ساری عمر کبھی بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ٹیگور کے شعروں میں کیا خوبی ہے لیکن ہندوؤں نے ان کا اس قدر پروپیگینڈا کیا کہ جہاں بیٹھے ان کا ذکر شروع کر دیا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ والے بھی ان کو بڑا سمجھنے لگے اور ان کی کتابوں کے تراجم اپنی زبانوں میں کئے اور یہ سب ہندوؤں کے پروپیگینڈا کا نتیجہ ہے۔دنیا میں باتوں سے بھی مسمریزم ہو جاتا ہے۔بچپن میں میرے گلے میں مخمل کا ایک فیتہ باندھا گیا تھا اور میرے بھائیوں کے گلوں میں بھی۔خیال یہ تھا کہ اس کے باندھنے سے دانت بآسانی نکل آتے ہیں۔اس زمانہ میں یہ فیتہ لاکھوں روپے کا بکا۔ہمیں لاکھ روپے کی بکری چند سالوں میں ہو گئی۔اور اس شخص نے اس سے دس پندرہ لاکھ روپیہ کمایا۔مگر کچھ عرصہ کے بعد حکومت کو شک ہوا اور اس نے ایک کمیشن بٹھایا جس نے رپورٹ کی کہ یہ صرف ایک ٹین کی تارہے جس کے اوپر محتمل لپیٹی گئی ہے لیکن یہی چیز پہلے امریکہ میں مشہور ہوئی۔وہاں سے یورپ اور یورپ سے ہندوستان آ پہنچی اور پھر یہاں کے دیہات تک میں پھیل گئی حتی کہ ڈاکٹر اپنے نسخوں میں اسے تجویز کرتے تھے اور چونکہ یہ عام خیال پیدا ہو گیا تھا کہ یہ مفید چیز ہے اس خیال کی وجہ سے بعض لوگوں کو فائدہ بھی ہو تا تھا لیکن دراصل یہ کوئی مفید چیز نہ تھی۔آخر اس کے موجد پر مقدمہ چلایا گیا اور اسے امریکہ کو چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔اس قسم کے واقعات دنیا میں کثرت سے ہوتے ہیں کچھ لوگ ایک بات کی تائید کرتے ہیں اور اس سے متاثر ہو کر دوسرے بھی بغیر غور کرنے کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔مگر یہ ہندوؤں کا حال ہے۔مسلمان تو اپنے لائق آدمیوں کی بھی قدر نہیں کرتے۔گاندھی جی نے جب عدم تشدد کا فلسفہ پیش کیا تو میں واحد شخص تھا جس نے آج سے بیس سال قبل