خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 461

$1940 460 خطبات محمود فرماتا ہے کہ زمینوں میں پھرو اور دیکھو۔1 آسمانوں، چاند، ستاروں اور سورج کی بناوٹ پر غور کرو۔زمین میں سے ظاہر ہونے والی اور اپنے ارد گرد کی چیزوں پر غور کرو اور یہی سائنس ہے مگر اس کی طرف مسلمانوں کی توجہ بہت کم ہے۔خصوصاً اس کے عملی حصہ کی طرف مسلمانوں کی توجہ بہت ہی کم ہے۔حالانکہ یورپ میں آج بھی مسلمانوں کی جو یاد گاریں ہیں وہ کیمسٹری اور ہند سے یعنی حساب ہی ہیں۔اہل یورپ اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتے کہ حساب کے علم کی پختہ بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور الجبر اتو کلی طور پر مسلمانوں کی ایجاد ہے۔اس کے علاوہ میتھمیٹکس کے بہت سے مسائل بھی مسلمانوں کے زمانہ کی ایجاد ہیں۔جو آجکل کالجوں میں مختلف ناموں سے پڑھائے جاتے ہیں۔مثلاً مساحت 2 ہے اسے ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر مسلمانوں نے کمال تک پہنچا دیا۔اسی طرح اور علوم کو بھی انتہائی ترقی دی مگر آج مسلمان کے معنے یہ سمجھے جاتے ہیں کہ جسے حساب نہ آتا ہو۔گویا مسلمانوں نے حساب کے فن کو کمال تک پہنچا کر اسے دوسروں کے سپر د کر دیا۔جس طرح یتیم کا مال جب وہ بڑا ہو جائے تو اس کے سپر د کر دیا جاتا ہے مسلمانوں نے بھی حساب کے علم کو یتیم کا مال سمجھا، اسے بڑھایا، ترقی دی اور پھر دوسری قوموں کے سپر د کر دیا کہ سنبھال لو۔آج کہا جاتا ہے کہ مسلمان کا دماغ حساب کے لئے موزوں ہی نہیں ہوتا۔حالانکہ اس گئے گزرے زمانہ میں بھی جب کوئی مسلمان اس کی طرف توجہ کرتا ہے تو اس میں نمایاں اور ممتاز ترقی کرتا ہے۔مثلاً ایک صاحب سر سلیمان ہیں جو فیڈرل کورٹ کے حج ہیں۔پہلے وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جج تھے۔پیشہ ان کا قانون ہے اور گزارہ ملازمت پر ہے لیکن وہ اپنے طور پر حساب کا شوق رکھتے ہیں اور اس شوق میں انہوں نے اس درجہ کمال پیدا کیا ہے کہ اس زمانہ کے مشہور فلسفی اور حساب کے ماہر آئن سٹائن کی بھی جس نے نظریہ اضافت کی دریافت کی ہے انہوں نے غلطیاں نکالی ہیں۔آئن سٹائن اس زمانے کا بڑا فلسفی حساب دان مانگا گیا ہے مگر سر سلیمان نے اپنی تحقیقات سے اس کی غلطیاں ثابت کی ہیں۔اگر ہندوؤں میں کوئی ایسا شخص ہو تا تو وہ اسے آسمان پر اٹھا لیتے۔گزشتہ سورج گرہن کے متعلق انہوں نے قبل از وقت لکھا تھا کہ اگر آئن سٹائن کی تھیوری صحیح ہے تو گر ہن اس طرح لگنا چاہیے اور اگر میری تھیوری صحیح ہے تو اس طرح لگے گا اور جب گرہن لگا تو