خطبات محمود (جلد 21) — Page 423
خطبات محمود 422 $1940 اصل رستہ باہر سے جاتا ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اسے شہر کی گلیوں میں سے گزارا جائے اور پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان گلیوں سے اسے گزرنے کی اجازت دی جائے جن میں کثرت آبادی احمدیوں کی ہے۔حکام نے اس اعتراض کو قبول نہ کیا کہ کوئی وجہ نہیں اسے شہر کی گلیوں میں سے گزارا جائے اور کہا کہ شہروں کی گلیاں چلنے پھرنے کے لئے ہوتی ہیں اور اس لئے ہم لوگوں کو ان میں چلنے سے کیسے روک سکتے ہیں۔البتہ اسے ان علاقوں سے نہیں گزرنے دیا جائے گا جن میں کثرت آبادی احمدیوں کی ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ جلوس مغرب سے ہوتا ہوا شمال کی طرف چلا جائے گا اور پھر باہر ہی باہر مشرق کی طرف جلسہ گاہ میں پہنچ جائے گا۔مگر جب وہ مغربی رستہ کو طے کر کے شمال کی طرف پہنچا تو حکام کے تجویز کردہ رستہ کو اختیار کرنے کی بجائے پولیس کی صفوں کو توڑ کر احمدی محلوں کی طرف ہو گیا۔یہ بات حکام کے وعدہ کے سراسر خلاف تھی اور اس وجہ سے بعض دوستوں کو شکوہ پیدا ہوا ہے اور انہوں نے اظہارِ رنج کیا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری نسبت حکام کے لئے زیادہ اظہار رنج کا موجب ہے جنہوں نے پہلے ایک بات کہی اور پھر ان کی آنکھوں کے سامنے اسے توڑ دیا گیا۔پہلے تو پولیس لائن بنا کر ان کے سامنے کھڑی ہوئی اور پھر معا ان کے آگے آگے چل پڑی۔یہ قانون شکنی کا ایسا مظاہرہ ہے جس سے حکام اور حکومت دونوں کی عزت قائم نہیں رہ سکتی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جو ڈنڈا دکھائے حکومت اس کے آگے جھک جاتی ہے۔ایسی حکومت جو اپنے احکام کی پابندی نہیں کر سکتی اسے قانون اور انتظام کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا کوئی حق نہیں۔قانون اور انتظام کو ہاتھ میں رکھنے کا دعویداروہی ہو سکتا ہے جو اپنے احکام کا نفاذ بھی کرا سکے۔حکام اور اہل جلوس کی یہ جنگ ایسی ہی تھی جیسے کہتے ہیں کہ کسی جگہ کوئی پٹھان تھا جس کی مونچھیں بہت بڑی بڑی تھیں اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس جگہ مونچھیں رکھنے کا حق صرف مجھ کو ہی ہے۔اور وہ شہر میں سب کو ڈراتا تھا کہ خبر دار اگر کسی نے مونچھیں اونچی کیں۔انسانی فطرت ہے کہ جس بات سے اسے روکا جائے اس کی طرف وہ ضرور مائل ہو تا ہے اور مقابلہ کرتا ہے۔اور جب تک طبائع خود مائل نہ ہوں اس بات کو قبول نہیں کیا جاتا۔اس لئے کئی لوگوں نے مونچھیں اونچی رکھنی شروع کیں مگر اس نے ہر ایک کو دو دو تین تین تھپڑ لگائے۔