خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 379

$1940 378 خطبات محمود کرتے ہیں۔اسی طرح امراء میں یہ نقص بھی ہوتا ہے کہ وہ نمازیں نہیں پڑھتے۔سارا دن شطر نج کھیلیں گے ، ٹینس کھیلیں گے ، بیڈ منٹن کھیلیں گے ، برج وغیرہ انگریزی کھیلیں کھیلتے رہیں گے مگر نماز نہیں پڑھیں گے اور جب ان سے پوچھا جائے تو وہ کہہ دیں گے کہ کیا کریں فرصت ہی نہیں ملتی۔پھر کچھ امراء اس وہم میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہمارا کپڑا پاک نہیں۔ایک دفعہ حیدر آباد کے ایک بڑے نواب صاحب جو نظام حیدرآباد کے رشتہ داروں میں سے ہیں مجھے سے ملنے آئے۔میں نے ان کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی کہ آپ نمازیں پڑھا کریں۔وہ کہنے لگے میں نماز تو پڑھتا ہوں ہاں سفر میں نماز رہ جاتی ہے کیونکہ سفر میں پوری صفائی نہیں ہوتی اور اس طرح نماز چھوڑ دینی پڑتی ہے۔چنانچہ کہنے لگے دیکھئے سفر میں پوری صفائی کہاں ہو سکتی ہے ریل کے گدیلے پر بیٹھا جاتا ہے اور وہ کہاں صاف ہوتے ہیں۔اسی طرح پاخانے صاف نہیں ہوتے اور نجاست کے چھینٹے کپڑوں پر آپڑتے ہیں۔اس وجہ سے نمازیں پڑھنی مشکل ہو جاتی ہیں۔میں نے کہا آپ کا یہ خیال غلط ہے آپ کو نماز بہر حال پڑھنی چاہیے۔بے شک کپڑوں کی صفائی بھی ضروری ہے لیکن اگر صفائی کسی وجہ سے نہ ہو سکے تو انہی کپڑوں سے نماز پڑھ لیں اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ اگر آپ کے پاس کپڑوں کا ایک ہی جوڑا ہو اور وہ پیشاب میں ڈوبا ہوا ہو اور اتنا وقت نہ ہو کہ آپ صفائی کر سکیں تو انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لینی چاہیئے۔بے شک صفائی بھی ضروری چیز ہے لیکن جب تک صفائی کا وقت ہو اس وقت تک صفائی کریں اور جب نماز کا وقت آجائے تو اس وقت نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں خواہ کپڑوں سے کتنی ہی غلاظت لگی ہوئی ہو کیونکہ نماز تمام چیزوں سے مقدم ہے اور اسے کسی صورت بھی ترک کرنا جائز نہیں۔غرض میں نے نماز پڑھنے کے متعلق بہت ہی زور دیا اور اس کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے اپنے نوکروں کو حکم دے دیا کہ صبح مجھے نماز کے لئے ضرور جگا دیا جائے اور اگر میں نہ اٹھوں تو بے شک مجھے چار پائی سے گرا دینا کیونکہ اس نصیحت کے بعد آج نماز نہ پڑھنا میں بہت بڑا گناہ سمجھتا ہوں۔امراء عموماً جلدی سو جایا کرتے ہیں مگر اس روز وہ مجھ سے کافی دیر تک باتیں کرتے رہے اس لئے انہیں کافی رات گئے سونا پڑا۔جب صبح کا وقت ہوا تو نوکروں نے انہیں اٹھا یاوہ بڑی مشکل سے اٹھ تو بیٹھے مگر پھر