خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 361

$1940 360 خطبات محمود رعایت کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ یہ بھی ہم سے الجھ جاتے ہیں لیکن باوجود اس کے ان کے ممالک میں تبلیغ زیادہ آسانی سے ہو سکتی ہے کیونکہ ان میں سے کچھ تو مذہب سے بیگانہ ہیں اور اس وجہ سے مذہبی معاملات میں زیادہ دخل نہیں دیتے اور کچھ لوگ واقع میں وسیع الحوصلہ ہیں اور روادار ہیں۔پس ان کی مذہب سے یہ بے اعتنائی اور بعض کی رواداری ہمارے کام آجاتی ہے جیسا کہتے ہیں خدا شرے بر انگیز د کہ خیرے مادراں باشد ان کی مذہب سے بے اعتنائی بھی ان کی قوم کے لئے ایک شہر ہے مگر یہ بے اعتنائی ہمارے کام آجاتی ہے اور ہم سہولت کے ساتھ اپنے مذہب کی اشاعت کرتے چلے جاتے ہیں۔پس جو دوست اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان کے ملکوں اور علاقوں میں احمدیت اچھی طرح پھیل سکتی ہے ان کا فرض ہے کہ وہ ان کی کامیابی کے لئے دعا بھی کریں۔جو شخص یہ سمجھنے کے باوجود کہ ان کی مذہب سے بے اعتنائی یا تعصب سے خالی ہونا ہمارے کام آرہا ہے اور سلسلہ اور اسلام کو فائدہ پہنچارہا ہے پھر بھی ان کی کامیابی کے لئے دعا نہیں کرتا میں سمجھتا ہوں وہ اپنے عمل سے دین کو نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دین کا فائدہ ان کی کامیابی میں ہے مگر ان کی کامیابی کے لئے دعانہ کر کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔ہاں جو شخص یہ نہیں سمجھتا گو میرے نزدیک وہ غلطی پر ہے مگر میں اسے دعا کے لئے نہیں کہتا کیونکہ جب وہ اس بات پر یقین ہی نہیں رکھتا کہ دین کا فائدہ ان کی کامیابی میں ہے تو اسے دعا کے لئے کس طرح کہا جاسکتا ہے؟ دوسری چیز جو ان دعاؤں میں یا در کھنی چاہیئے وہ تحریک جدید کے چندہ کے مطالبہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔دوستوں کو معلوم ہے کہ میں یہ کوشش کر رہا ہوں (اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں اس کوشش میں کامیاب ہو تا ہوں یا نہیں اور میری اس جدوجہد کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ابھی تو اس میں بہت سی مشکلات اور روکیں حائل ہو رہی ہیں) کہ تحریک جدید کے چندہ سے ایک ایسا مستقل فنڈ قائم کر دیا جائے جس کے نتیجہ میں تبلیغ کا کام عام چندوں کے بڑھنے گھٹنے کے اثر سے آزاد ہو جائے۔جو لوگ اس کام میں حصے لے رہے ہیں وہ اشاعت دین کی ایک مستقل بنیاد قائم کر رہے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں کامیاب کر دیا تو وہ عملی طور پر