خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 362

$1940 361 خطبات محمود اس بنیاد کو قائم کرنے والے ہوں گے اور اگر میری ان کو ششوں میں اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت کامیابی نہ ہوئی تب بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ایسے ہی سمجھے جائیں گے جیسے مستقل بنیا د رکھنے والے۔پس ایسی قربانی کرنے والے دوست اس بات کے مستحق ہیں کہ جماعت کے تمام لوگ ان کے لئے دعا کریں۔جو لوگ تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ یہ طوعی تحریک ہے اور اس میں شمولیت انہوں نے ضروری نہیں سمجھی۔ان کا کم سے کم فرض یہ ہے کہ وہ تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کے قدم کو نیکیوں میں بڑھائے اور ان کا انجام بخیر کرے۔در حقیقت صحیح معنوں میں نیک وہی ہے جس کا انجام نیک ہو اور بد وہی ہے جس کا انجام بُرا ہو۔قرآن کریم نے اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت یعقوب علیہ السلام کی یہ وصیت بیان فرمائی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹوں کو کی کہ لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ 1 اس کا یہ مطلب نہیں کہ درمیانی زندگی میں تم بے شک بد معاش رہنا صرف مرتے وقت خدا کی طرف متوجہ ہو جانا بلکہ حضرت یعقوب علیہ السلام یہ فرماتے ہیں کہ میں تو تمہارے انجام کو دیکھنا چاہتا ہوں۔مجھے تمہاری درمیانی نیکیوں سے کوئی غرض نہیں۔اگر تم بالفرض زندگی میں نیکیاں بھی کرتے رہے لیکن تمہارا انجام لَا اِلهَ إِلَّا اللہ پر نہ ہوا تو پھر تم کسی اور طرف جاؤ گے اور میں کسی اور طرف جاؤں گا۔دنیا میں کوئی باپ ایسا نہیں جو یہ خواہش نہ رکھتا ہو کہ اس کی اولا د اس کے پاس رہے۔دنیا میں ہر انسان کے اندر یہ خواہش پائی جاتی ہے اور اگلے جہان میں بھی یہ خواہش موجو د ہو گی بلکہ یہاں تو کئی قسم کی مجبوریوں کی وجہ سے اولاد اپنے ماں باپ سے جدا بھی رہتی ہے لیکن اگلے جہان میں ایسا نہیں ہو گا بلکہ وہاں اللہ تعالیٰ ماں باپ کی اس خواہش کا ایسا احترام کرے گا کہ اپنے عام قانون کو بھی بدل دے گا اور اولاد کو خواہ وہ ایمان کے کسی درجہ پر ہوں ان کے ماں باپ کے پاس رکھے گا۔فرض کرو جنت کے ایک کروڑ درجے ہوں اور بچہ تو دسویں حصہ کا مستحق ہو اور باپ کروڑ ویں حصہ کا تو اللہ تعالیٰ اس خواہش کے احترام میں دس والے کو اٹھا کر کروڑ والے کے مقام تک پہنچا دے گا اور یہ برداشت نہیں کرے گا کہ باپ کو یہ صدمه رہے کہ اس کا بچہ اس سے جدا ہے۔پس وہاں ماں باپ کی اس محبت کا انتہائی احترام کیا جائے