خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 358

$1940 357 خطبات محمود شاید اسی وجہ سے اسکی مثیت نے فیصلہ کیا کہ تم چونکہ گائے کو ہمارا شریک ٹھہراتے ہو اس لئے ہم تمہیں بھی گائے کی طرح بنا دیتے ہیں۔جاؤ اور دنیا میں دوسروں کے ہاتھ بکتے پھرو۔اگر ہندوستان اس شرک سے پاک ہوتا اور اگر یہاں کے رہنے والے عقل سے کام لیتے اور گائے کی پرستش کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتے تو ممکن تھا اللہ تعالیٰ گائے کی بجائے انسانیت کا کوئی اچھا مر تبہ انہیں عطا کر دیتا مگر چونکہ انہوں نے شرک کیا اس لئے جس طرح گائے بکتی پھرتی ہے اسی طرح ہندوستانی بکتے رہتے ہیں۔اور جس طرح گائے دوسروں کو تو دودھ دیتی ہے اور خود بھوسہ کھا کر گزارہ کرتی ہے اسی طرح ہندوستان سے دوسری قومیں تو فائدہ اٹھارہی ہیں اور ہندوستانیوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔پس ہندوستان کے لئے بہت زیادہ خطرات ہیں اور اس کے پاس اپنی حفاظت کے پورے سامان بھی موجود نہیں۔اس کا پتہ اس امر سے لگ سکتا ہے کہ وہ سامانِ جنگ جن کے متعلق ہندوستانی ہمیشہ یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ ان کے تیار کرنے میں گورنمنٹ اسراف سے کام لے رہی ہے آج اتنے حقیر نظر آتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے گویا گورنمنٹ نے ا بھی ہندوستان کی حفاظت کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔اور سچی بات تو یہ ہے کہ ہندوستان کے پاس سامانِ حرب کی اس قدر قلت ہے کہ اگر کوئی بڑی طاقت اس پر حملہ آور ہو تو دو دن بھی یہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ مہلت دے دے اور لڑائی لمبی ہو جائے اور وہ ہوائی جہاز جو امریکہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ حاصل ہو جائیں۔اسی طرح ٹینک اور ہوائی پائلٹ وغیرہ تیار ہو جائیں تو اور بات ہے ورنہ موجودہ حالت تو ایسی ہے کہ ہندوستان صرف انگلستان کے رُعب کی وجہ سے بچا ہوا ہے ورنہ اگر اس ملک پر کوئی قوم حملہ آور ہو تو یہ اس کا پوری طرح مقابلہ نہیں کر سکتا۔دعا کرو کہ اللہ تعالٰی انگریزوں کو موجودہ مصیبت سے نجات دے۔پس نادان ہیں وہ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ آج انگلستان سے الگ ہو کر ہندوستان کوئی طاقت حاصل کر سکتا ہے۔آج ہندوستان اور انگلستان کی قسمت ایک ہی پلڑے میں ہے۔ایک جھکا تو دوسرا بھی جھکے گا اور اگر ایک اونچا ہوا تو دوسرا بھی اونچا ہو گا۔یہ سوال نہیں کہ ان حالات کی ذمہ داری کس پر۔