خطبات محمود (جلد 21) — Page 263
$1940 262 خطبات محمود تحریروں سے نکال کر ان کے سامنے رکھ دیتا ہوں اور وہ ان کے نیچے لکھ دیں کہ آج بھی میرا عقیدہ یہی ہے اور وہ میری اس زمانہ کی تحریروں سے میرے عقائد نکال دیں اور میں لکھ دوں گا کہ آج بھی میرے عقائد یہی ہیں ہم دونوں ممنہ سے یہی کہتے ہیں کہ ہمارے عقائد آج بھی وہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تھے۔پس اس طرح اس زمانہ کی تحریرات سے ہم ایک دوسرے کے عقائد نکال کر پیش کر دیں اور دونوں اپنے اپنے عقائد کے نیچے لکھ دیں کہ آج بھی ہمارے عقائد یہی ہیں اور پھر دونوں کے عقائد کتاب کی صورت میں شائع کر دیئے جائیں اور ساتھ ہی دونوں کی یہ تحریریں بھی چھپ جائیں کہ ہمارے عقائد آج بھی یہی ہیں۔یہ ایسا سادہ طریق ہے کہ نہ ہمیں ان کے آدمی تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ان کو ہمارے۔صرف ایک دوسرے کی تحریرات کے اقتباس شائع کر دیئے جائیں۔ہاں چونکہ یہ ممکن ہے کہ کسی کی تحریر کا کوئی اقتباس ناقص ہو اس لئے ہر فریق کو حق ہو گا کہ وہ مطالبہ کرے کہ میری تحریر کا اقتباس ناقص ہے فلاں حصہ اس کے ساتھ شامل کیا جائے یا فلاں دوسری جگہ پر میرے اس کلام کی شرح موجود ہے اسے شامل کیا جائے ، اس کا یہ مطالبہ پورا کیا جائے۔( ان تشریحی عبارتوں کے لئے بھی یہ شرط ہو گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی شائع شدہ ہوں) اس طرح کسی پر ظلم نہ ہو گا۔ان کو حق ہو گا کہ ان کی کسی تحریر کا حل اگر کسی دوسری جگہ موجود ہو تو اس کے ساتھ شامل کرنے کا وہ مطالبہ کریں اور اسی طرح میری کسی تحریر کا حل اگر دوسری جگہ ہو تو میر احق ہو گا کہ اس کے ساتھ شامل کرنے کا میں مطالبہ کروں اور یہ حل بھی ساتھ شامل کر لئے جائیں۔یہ ایک آسان طریق ہے کہ نہ بورڈ مقرر کرنے کی ضرورت ہے اور نہ مناظروں کی۔صرف دونوں فریق کی وہ تحریرات جو زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہیں اکٹھی شائع کر دی جائیں اور دونوں ان پر لکھ دیں کہ آج بھی ہمارے عقائد یہی ہیں۔اس کے بعد دنیا خود فیصلہ کرلے گی کہ اس زمانہ میں میرے عقائد اور تھے یا مولوی محمد علی صاحب کے ؟ اگر یہ ثابت ہو جائے گا کہ میں نے اب اپنے عقائد بگاڑ لئے ہیں تو میرا اثر جاتا رہے گا اور اگر یہ ثابت ہو گا کہ ان کے عقائد اس زمانہ میں اور تھے تو ان کے ساتھیوں کے لئے یہ بات ہدایت کا موجب ہو جائے گی اور وہ یہ سمجھ