خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 262

$1940 261 خطبات محمود مگر ہمارے پاس اس بات کی قطعی اور یقینی شہادتیں ہیں کہ وہ ان لوگوں کی امداد کرتے رہے۔ان کی بغداد کی جماعت کے سیکرٹری نے خود بیان کیا کہ میرے پاس مرکز لاہور سے ان لوگوں کے اشتہار اور ٹریکٹ تقسیم کے لئے آتے رہے ہیں تو وہ ہمیشہ اشاعت کے ذریعہ سے بھی اور روپے سے بھی ان لوگوں کی مدد کرتے رہے ہیں مگر میر ا طریق یہ ہے کہ میں ان سے بیزار ہونے والوں کو ہمیشہ یہی نصیحت کرتا رہا ہوں کہ اپنے دین کی اصلاح کی طرف توجہ کرو۔گالیاں دینے کو مذہب نہ بناؤ ورنہ تمہیں نہ وہاں ہدایت نصیب ہوئی ہے اور نہ یہاں ہو گی۔پس یہ بات نہیں کہ منافق ہماری جماعت میں ہی ہیں ان میں نہیں۔بات صرف یہ ہے کہ ان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ ہمارے کمزوروں کی جستجو کرتے رہتے ہیں مگر ہمارا یہ طریق نہیں اور میں فطرتاً ایسا نہیں کر سکتا۔پس بورڈ کے انتخاب کا جو طریق وہ اختیار کرتے ہیں وہ بالکل غیر طبعی ہے اور کوئی معقول انسان اسے قبول نہیں کرے گا۔وہ کہتے ہیں وہ تین ماہ سے یہ بات پیش کر رہے ہیں اور میں نے کہا ہے قریباً 23 سال سے وہ یہ کہہ رہے ہیں لیکن اگر سو سال بھی کہتے رہیں تو یہ نہیں مانی جاسکتی کہ ہم عقائد کا فیصلہ کسی بورڈ سے کرائیں۔ہاں انتظامی امور کی نگرانی کے لئے بورڈ ہو سکتا ہے مگر ہمارے نمائندے وہ ہوں گے جن کو ہم منتخب کریں اور ان کے وہ جنہیں مولوی محمد علی صاحب یا اور کوئی جسے ان کی انجمن اختیار دے منتخب کریں۔پس اگر وہ اس طریق پر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو میں نے اس کا جواب دے دیا ہے۔وہ چاہیں تو اس طرح کر سکتے ہیں لیکن میں جانتا ہوں ان کا ہمیشہ سے یہی طریق ہے اور وہ ہمیشہ ایسی تدابیر کرتے رہتے ہیں جس سے دوسروں کو ہدایت سے محروم رکھ سکیں۔مگر مجھے یقین ہے کہ صداقت آخر غالب آکر رہے گی اور ان کی ساری تدابیر هباء ہو کر اُڑ جائیں گی۔اللہ تعالیٰ کی روشنی ان کی کمزوریوں کو خود ظاہر کر کے دوسروں کے لئے ہدایت کے سامان کر دے گی۔اگر مولوی محمد علی صاحب کو سچائی کے اظہار کی ضرورت ہے تو اس سے بہتر ترکیب میں نے کئی بار ان کے سامنے پیش کی ہے۔وہ اسے کیوں اختیار نہیں کرتے ؟ میں نے کئی بار کہا ہے کہ صحیح عقائد وہی ہو سکتے ہیں جن کا ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں علی الإعلان اظہار کیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں وہ جن عقائد کا اظہار کیا کرتے تھے میں ان کی