خطبات محمود (جلد 21) — Page 242
$1940 242 خطبات محمود ایک بیوی فوت ہوئی حالانکہ وہ آپ کو اتنی پیاری تھیں کہ اس کی مثال اور کسی بیوی میں نظر نہیں آتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول کریم صلی ایم کو بڑی محبت تھی مگر ایک دفعہ حضرت عائشہ سے ہی کسی نے پوچھا کہ کیا آپ کو کسی بیوی کے متعلق کبھی غیرت بھی آئی۔اس پر انہوں نے کہا کہ زندہ بیویوں میں سے تو کسی کے متعلق مجھے کبھی غیرت نہیں آئی مگر ایک بیوی جو وفات پاچکی ہے اس کے متعلق مجھے ضرور غیرت آجاتی ہے کیونکہ کبھی کبھی رسول کریم صلی ا یا اس کی اتنی تعریف کرتے ، اتنی تعریف کرتے کہ میں کہتی یار سول اللہ کیا وہ بڑھیا آپ کو اس جو ان سے اچھی لگتی ہے؟ اور رسول کریم صلی ا یکم فرماتے کہ عائشہ ! تجھے کیا معلوم خدیجہ کیا تھی؟ اور یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور فرماتے اس نے میری اتنی خدمت کی ہے اور اس نے اس طرح اپنے آپ کو میرے لئے قربان کر دیا کہ میں اس کی خدمت اور اس کے درجہ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔8 ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے وعظ و نصیحت کر رہے تھے۔عور تیں آپ کے ارد گرد بیٹھی تھیں اور ان عورتوں میں بڑے بڑے معزز خاندانوں کی مستورات شامل تھیں کہ اچانک ایک بڑھیا پھٹے پرانے کپڑوں میں آگئی۔آپ اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے نیچے جو کپڑا بچھا ہوا تھا وہ اٹھا کر اس کی خاطر بچھا دیا اور فرمایا آگئی میری خدیجہ کی سہیلی ، آگئی میری خدیجہ کی سہیلی 9 اس قسم کی محبت کی موجودگی میں تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ حضرت خدیجہ کی بیماری کے دنوں میں رسول کریم صلی الی ایم نے ان کے لئے کتنے درد اور کتنے سوز سے دعائیں کی ہوں گی مگر پھر وہ دعائیں قبول تو نہ ہوئیں اور رسول کریم صلی علیہ کی یہ ہی کو خدا کی مشیت پر صبر کرنا پڑا۔اسی طرح ابو طالب کے متعلق آپ نے کس قدر دعائیں کیں کہ خدایا اسے ہدایت دے دے مگر ان دعاؤں کے باوجود ابو طالب کو ہدایت نہ ملی۔غرض رسول کریم صلی ال نیم کی بیوی بھی فوت ہوئی، بچے بھی فوت ہوئے اور پھر چا، ایسا محبت کرنے والا چچا جس نے باوجود مذہبی اختلاف رکھنے کے اور باوجود اس کے کہ اپنی قوم کی دشمنی اس نے اپنے سر لے لی اور اپنی تمام عمر رسول کریم صلی نیم کی خدمت میں صرف کر دی۔اس کی ہدایت کے لئے آپ نے کی