خطبات محمود (جلد 21) — Page 215
$1940 215 خطبات محمود جماعت کے اندر بہت سی اصلاح ہوئی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ مساجد میں پہلے سے زیادہ لوگ نمازیں پڑھنے آتے ہیں مگر پھر بھی ابھی بہت کچھ توجہ کی ضرورت ہے۔بُری صحبت نوجوانوں کو بہت خراب کر دیا کرتی ہے اس لئے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ جو بچے جوانی کی عمر کو پہنچ جائیں انہیں بدصحبتوں سے بچا کر مساجد سے ان کا تعلق بڑھایا جائے۔ذکر الہی کی عادت ڈالی جائے اور بجائے اس کے کہ وہ گئیں ہانک کر اپنے وقت کو ضائع کیا کریں انہیں تسبیح و تحمید اور رسول کریم صلی ای دلم پر درود بھیجنے کی تلقین کی جائے۔جس دن ہماری جماعت میں یہ باتیں پیدا ہو جائیں گی اسی دن ان کی دعاؤں میں بھی برکت پیدا ہو جائے گی۔اب کئی لوگ دعائیں تو کرتے ہیں مگر بعد میں شکایت کرتے ہیں کہ نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مساجد سے ان کا تعلق نہیں ہوتا اور نہ ذکر الہی کی طرف ان کی توجہ ہوتی ہے۔اگر وہ مسجدوں میں باقاعدہ آیا کریں تو ان کی دعاؤں میں بھی تاثیر پیدا ہو جائے کیونکہ خدا تعالیٰ سے کچھ مانگنے کا اصل مقام خد اتعالیٰ کا گھر ہے اور خدا تعالیٰ کا گھر مسجدیں ہیں۔اگر تم اپنے کسی دوست سے کوئی چیز مانگو اور فرض کرو کہ اس کا نام جلال الدین ہو تو تمہارے لئے ضروری ہو گا کہ تم اس کے گھر پر پہنچ کر اسے آواز دو اور اپنی حاجت اس کے سامنے پیش کرو لیکن اگر تم اپنے گھر میں بیٹھ کر ہی کہتے رہو کہ میاں جلال دین مجھے روٹی دینا، میاں جلال دین مجھے پانی دینا تو تمہیں روٹی اور پانی نہیں مل سکے گا۔ہاں اگر تم اس کے گھر پر جا کر دستک دو اور روٹی اور پانی کا مطالبہ کرو تو وہ تمہیں فوراً دے دے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر مقام پر مومن کی دعا کو سن لیتا ہے مگر جب اسی نے یہ شرط لگا دی ہے کہ اگر تم میرے گھر میں دعائیں مانگو گے تو میں انہیں زیادہ قبول کروں گا، تو تمہارے لئے بھی ضروری ہے کہ اس کے گھر جاؤ اور اس سے مانگو تا کہ وہ تم پر زیادہ سے زیادہ رحم کرے۔پس مسجدیں اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں ان کو ہمیشہ نمازوں اور دعاؤں اور ذکر الہی سے آباد رکھو اور بالخصوص اپنی اولاد کو مساجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا پابند بناؤ۔اگر تم خود دن رات عبادت میں مشغول رہتے ہو مگر تمہاری اولادیں اس طرف متوجہ نہیں اور نہ تمہیں ان کا کوئی خیال ہے تو در حقیقت تم نے اپنی اولاد پر بہت بڑا ظلم کیا ہے اور تم سے بڑھ