خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 216

$1940 216 خطبات محمود کر اُن کا اور کوئی دشمن نہیں۔اسی طرح وہ عورتیں بھی اپنی اولاد کی دشمن ہیں جن کے بچوں کو اگر بخار یا سر درد ہو جاتا ہے تو انہیں علاج کا فکر ہو جاتا ہے مگر جب خدا تعالیٰ کی عبادت کا سوال آتا ہے تو وہ اپنے بچہ کے متعلق کہہ دیتی ہیں کہ اسے کیا کہنا ہے یہ تو ابھی “نیانا” ہے۔اس طرح بچہ اور “نیانا” کہہ کر وہ اس کی عمر کو برباد کر دیتیں اور اسے ساری عمر نیک کاموں سے محروم رہنے والا بنا دیتی ہیں۔پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ رستہ اختیار کریں جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ان کی کامیابی کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔جب تک وہ صحیح رستہ اختیار نہیں کریں گے ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہو گی جیسے ہندوستان میں بیٹھ کر نماز پڑھتے وقت کوئی شخص مشرق کی طرف ممنہ کر لے یا یمن اور عدن میں رہنے والا جنوب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دے یا شام ، دمشق اور فلسطین میں رہنے والا شمال کی طرف منہ کر لے یا ایسے سینیا اور ایسٹ افریقہ میں رہنے والا مغرب کی طرف منہ کرلے۔جس طرح ان لوگوں کی نماز قبول نہیں ہو گی اسی طرح اگر کوئی شخص اس راستہ کو اختیار نہیں کرتا جو اس کی کامیابی کے لئے خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہوا ہے تو اسے بھی کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔اور میں نے بتایا ہے کہ ہمارے لئے کامیابی کا رستہ یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دامن کو پکڑ کر اس کے پاس بیٹھ جائیں اور اسے کہیں کہ ہم نے جو کچھ لینا ہے تجھی سے لینا ہے۔اگر ہم یہ طریق اختیار کر لیں تو ہماری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں ہو گا۔دنیا میں خواہ کوئی تغیر آئے، خواہ کتنے بڑے مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں اگر ہم اس راستہ پر چلتے چلے جائیں گے تو ہماری کامیابی قطعی اور یقینی ہو گی لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کا رستہ چھوڑ دیں اور دوسری قوموں کی طرف دیکھ کر یہ خیال کریں کہ جس رنگ میں انہوں نے ترقی کی ہے اسی رنگ میں ہم بھی ترقی کر سکتے ہیں تو ہماری تمام کوششیں اول تو ہیں ہی حقیر اور بے حقیقت لیکن اگر دنیا کی ساری طاقتیں بھی ہمارے ساتھ مل جائیں اور ہم ان تمام طاقتوں کو استعمال میں بھی لے آئیں تب بھی ہماری ناکامی میں کوئی شبہ نہیں ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہی راستہ رکھا ہے کہ ہم اس کا دامن پکڑیں اور اس سے دعائیں کرتے چلے جائیں۔پس اس راہ کو اختیار کرو جو خدا نے تمہارے لئے