خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 214

* 1940 214 خطبات محمود جن حکومتوں اور جن طاقتوں کے ملنے کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان کی تمام قوت اور ان کی تمام طاقت خدا تعالیٰ نے دعاؤں میں ہی رکھی ہے نہ کہ حکومتوں اور سطلنتوں میں۔تمہاری مثال در حقیقت اس بچہ کی سی ہے جو ابھی دودھ پی رہا ہو تا ہے اور ماں اسے اپنی چھاتی سے چمٹائے پھرتی ہے۔اور وہ لوگ جو دشمن سے لڑائی کیا کرتے ہیں ان کی مثال اس جو ان کی سی ہوتی ہے جو اپنی ماں کے پہلو میں کھڑا ہو کر اس کی حفاظت کے لئے دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس شخص کی حالت رشک کے قابل ہوتی ہے جو اپنی ماں کی حفاظت کے لئے لڑ رہا ہو مگر کبھی اس کے دل میں بھی اس بات پر رشک پیدا ہوتا ہے کہ جیسے چھوٹے بچے کو ماں نے اپنی چھاتی سے لگارکھا ہے اسی طرح وہ بھی اپنی ماں کی گود میں ہو تا۔پس تم کیوں سمجھتے ہو کہ وہ حالت قابلِ رشک ہے اور یہ نہیں۔جیسے وہ حالت قابل رشک ہے اسی طرح یہ حالت بھی قابلِ رشک ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے تمام کام اپنے ذمہ لئے ہوئے ہیں۔بے شک چھوٹا بچہ بعض دفعہ اپنی ماں سے کہتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو میں خود چلنا چاہتا ہوں کیونکہ اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں بھی دوسروں کی طرح اکٹروں اور دوسروں کی طرح چل پھر کر کام کاج کروں مگر جب وہ اکثر تا یا تھوڑی دیر کے لئے ہی چلتا پھرتا ہے تو گر پڑتا ہے کیونکہ ابھی وہ اسی قابل ہوتا ہے کہ ماں کی گود میں بیٹھا ر ہے اور اس کی چھاتی سے دودھ پئے۔مسیحی صفت انبیاء کے ابتدائی زمانوں میں بھی خدا تعالیٰ اپنی جماعت کو اپنی گود میں بٹھاتا اور اسے رحمت اور عرفان کا دودھ پلاتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ وقت آ جاتا ہے جب دنیوی برکات سے بھی اسے متمتع کر دیا جاتا ہے مگر روحانی برکات کے مقابلہ میں دنیوی برکات کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔پس ہماری جماعت کو اپنا مقام سمجھتے ہوئے دعاؤں اور نمازوں کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیئے۔اس غرض کے لئے ہر محلہ میں اس بات کی نگرانی ہونی چاہیئے کہ لوگ مساجد میں نماز باجماعت کے لئے آتے ہیں یا نہیں؟ اور جو لوگ مسجدوں میں آنے میں سست ہوں انہیں نصیحت کرنی چاہیے کہ وہ باجماعت نماز پڑھا کریں۔مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ