خطبات محمود (جلد 21) — Page 199
* 1940 199 خطبات محمود عذاب کے طور پر آتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری اور جھکنے کے بغیر دور نہیں ہوا کرتے۔پس اس وقت دنیا پر جو مشکل اور نازک وقت آیا ہوا ہے اس کے حل کا یہی طریق ہے کہ سب لوگ خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائیں اور بہت دعائیں کریں۔اس موقع پر میں ایک اور نشان کا ذکر بھی کر دینا چاہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی ہفتہ ظاہر ہوا ہے اور جس کی طرف میں نے پچھلے سے پچھلے خطبہ میں اشارہ کیا تھا۔وہ رؤیا میں نے مفضل طور پر ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب، چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب اور عزیز مکرم میاں مظفر احمد صاحب کو بھی سنایا تھا اور چند روز ہوئے خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب نے مجھے بتایا ہے کہ میں نے انہیں بھی سنایا تھا۔یہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوں اور منہ مشرق کی طرف ہے۔میرے سامنے حکومت برطانیہ کی خفیہ خط و کتابت پیش کی جارہی ہے۔یہ چٹھیاں انگریزی حکومت کی طرف سے فرانسیسی حکومت کے نام ہیں۔ایک چٹھی میرے سامنے آئی جس میں حکومت برطانیہ نے فرانسیسی حکومت کو لکھا ہے کہ ہمارا ملک سخت خطرہ میں پڑ گیا ہے جرمنی اس پر حملہ آور ہونے والا ہے اور قریب ہے کہ اسے مغلوب کرے۔اس لئے ہم آپ سے چاہتے ہیں کہ انگریزی حکومت اور فرانسیسی حکومت کا الحاق کر دیا جائے۔یہ چٹھی پڑھ کر میں بہت گھبرایا اور قریب تھا کہ میری آنکھ کھل جاتی کہ یکدم آواز آئی کہ یہ چھ ماہ پہلے کی بات ہے۔یہ بات واضح ہے کہ ظاہری حالات میں ایسی درخواست وہی ملک کر سکتا ہے جو بہت کمزور ہو جائے۔اس رؤیا کی بناء پر میں خیال کرتا تھا کہ جر منی فرانس کے شمالی حصہ کو لے کر انگلستان پر حملہ کر دے گا اور اس حملہ کی وجہ سے انگلستان جب سخت خطرہ میں گھر جائے گا تو وہ فرانس سے درخواست کرے گا کہ ہماری حکومت اور اپنی حکومت کو ملا دو۔میں اس کی یہی تعبیر سمجھتا تھا کیونکہ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ جو ملک مغلوب ہونے لگتا ہے وہ دوسرے سے امداد کی درخواست کرتا ہے۔آج تک جب سے دنیا شروع ہوئی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی ایسے ملک سے جو شکست کھا چکا ہو اس سے طاقتور کسی ملک نے مدد کی درخواست کی ہو خطبہ کے بعد بعض اور دوستوں نے بھی اطلاع دی ہے جنہیں یہ رویا سنایا گیا تھا۔