خطبات محمود (جلد 21) — Page 200
$1940 200 خطبات محمود مگر اللہ تعالیٰ نے میرے اس رویا کو ایسے عجیب رنگ میں پورا کیا ہے کہ آج تک جب سے آدم پیدا ہوا کبھی ایسا نہیں ہوا۔جب فرانس گرنے لگا تو برطانیہ نے خیال کیا کہ اگر فرانس صلح نہ کرے تو کچھ نہ کچھ مزاحمت اس کی طرف سے ہوتی رہے گی اس کے جہاز بھی لڑتے رہیں گے، نو آبادیاں بھی جنگ کو کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھیں گی لیکن اگر وہ صلح کرے تو اس کے جہاز بھی جرمنی کو مل جائیں گے ، نو آبادیاں بھی مل جائیں گی اور اس صورت میں جرمنی کے حملہ کا سارا زور ہم پر پڑے گا اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت برطانیہ نے وہ کام کیا جس کی نظیر آج تک جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی کوئی نہیں ملتی یعنی اس نے فرانسیسی حکومت کو تار دیا کہ دونوں ملکوں کی حکومت ایک کر دی جائے اور فرانس کا برطانیہ سے الحاق کر دیا جاۓ۔حکومت ایک ہو، پارلیمنٹیں بھی ملا دی جائیں، خوراک کے ذخائر اور خزانہ بھی ایک ہی سمجھا جائے اور یہ وہ تحریک ہے جو مجھے خواب میں دکھائی گئی تھی۔گو میں نے غلطی۔اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ فرانس کی حکومت طاقتور رہے گی۔پہلے حملہ برطانیہ پر ہو گا اور پھر برطانیہ فرانس سے مدد کی درخواست کرے گا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے بالکل عجیب رنگ میں پورا کیا۔پہلے فرانس پر حملہ ہوا اور وہ بالکل گر گیا۔انگلستان نے سمجھا کہ گو وہ طاقتور ہے مگر اس کی طاقت اسی صورت میں اس کے لئے مفید ہو سکتی ہے کہ فرانس سے اس کو تھوڑی بہت مدد ملتی رہے اور اس لئے اس نے فرانس سے یہ درخواست کی کہ دونوں حکومتوں کو ایک کر دیا جائے۔یہی وہ بات تھی جس کا ذکر میں نے گزشتہ خطبہ میں مختصراً کیا تھا کہ برطانیہ خطرہ کی حالت میں دوسرے ملکوں سے امداد کی اپیل کرے گا۔جہاں تک مجھے یاد ہے دھرم سالہ میں میں نے اس کا ذکر پہلے عزیز مکرم میاں مظفر احمد صاحب سے کیا۔پھر باہر آیا تو اس جگہ جہاں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب دوائیاں دیتے تھے ان سے اس کا ذکر کیا۔پھر جہاں تک یاد پڑتا ہے چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کو بھی یہ رویا سنائی پھر اس سفر کراچی میں بعض دوستوں کو یہ رؤیا سنائی۔دو دن ہوئے خان صاحب فرزند علی صاحب نے بتایا کہ ان کو بھی یہ خواب میں نے سنائی تھی اور بھی بعض لوگوں کو سنائی تھی۔اور یہ بہت بڑا نشان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں چنانچہ خطبہ کے بعد بعض دوستوں کی طرف سے اس کی اطلاع مجھے ملی ہے۔