خطبات محمود (جلد 21) — Page 19
1940 19 خطبات محمود حاصل ہیں، اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج جرمنی کے کمانڈر انچیف کو حاصل ہیں۔پھر ان لوگوں کے پاس صرف سامان ہی نہیں بلکہ ملک کی متحدہ طاقت ان کے ساتھ ہے۔انگلستان کا کمانڈر انچیف جاتا ہے کہ اگر میرے پاس گولہ بارود ختم ہو گیا تو بھی پرواہ نہیں انگلستان کی تمام طاقت میرے ساتھ ہے اور اس کا بچہ بچہ میرے حکم پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہے۔فرانس کا کمانڈر انچیف صرف ان سامانوں کو نہیں دیکھتا جو اس کے پاس ہیں بلکہ وہ جانتا ہے کہ ملک کی تمام آبادی میرے حکم پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہے اور جب میں کہوں گا کہ گولہ بارود لاؤ تو وہ گولہ بارود اکٹھا کر دیں گے۔جب کہوں گا کہ جانی قربانی کرو تو وہ بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے سر کٹانے کے لئے آگے آجائیں گے اور اگر اور سامانوں کا مطالبہ کروں گا تو وہ حاضر کر دیں گے۔پھر ان کے سامنے اپنی کامیابیوں کی ایک تاریخ موجود ہے، لمبی اور مسلسل تاریخ۔فرانس کے کمانڈرانچیف کے سامنے فرانس کی کامیابیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے اور انگلستان کے کمانڈر انچیف کے سامنے انگلستان کی کامیابیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے۔وہ جانتے ہیں کہ وہ کس طرح بڑی اور بحری جنگوں میں گودے اور ہر میدان میں وہ فاتح اور کامیاب رہے۔یہ ساری چیزیں ان کے سامنے موجود ہیں مگر باوجود اس کے وہ گھبراتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اس جنگ کا کیا نتیجہ ہو گا؟ حالانکہ یہ جنگ صرف تلوار کی جنگ ہے دلوں کو فتح کرنے کی جنگ نہیں جو تلوار کی جنگ سے بہت زیادہ اہم اور بہت زیادہ کٹھن ہوتی ہے۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ آواز جو اس کے کان میں پڑی اس نے اس کے دل میں کیا تغیر پیدا کیا ہو گا۔مگر اس نے اس آواز کو ہنسی میں نہیں ڈالا، اس نے اسے پاگلانہ خیال نہیں سمجھا، اس نے اسے بیماری کا نتیجہ قرار نہیں دیا بلکہ اس نے اسے خدا ہی کی آواز قرار دیا اور کہا اے خدا! میں حاضر ہوں۔اس جواب کے بعد اس نے اپنی باقی رات کس طرح گزاری ہو گی اس کا اندازہ دنیا کا کوئی شخص نہیں لگا سکتا۔ایک بلبلہ جس طرح سمندر کی سطح پر نمودار ہوتا ہے بالکل اسی طرح وہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوا بلکہ بلبلہ اور سمندر کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ بھی اس کے مقابلہ میں بیج ہے۔ایک چھوٹا سابیچ تھا جو بہت بڑے جنگل میں ڈال دیا گیا جہاں خشکی ہی خشکی تھی اور پانی کا ایک قطرہ نہ تھا۔جہاں ریت ہی ریت تھی اور مٹی کا ایک ذرہ نہ تھا۔بلکہ وہ بیچ جو بیابان میں ڈال دیا جائے