خطبات محمود (جلد 21) — Page 161
$1940 161 خطبات محمود میں دس آدمی کھڑے ہوں تو یہ اور بھی اچھی بات ہے۔جاہل اور منافق اور ایمان سے ناواقف انسان کہے گا کہ میں جماعت کو کیسی بے عقلی کی تعلیم دے رہا ہوں مگر قرآن کریم کی تعلیم یہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کے اندر علم النفس کے ماتحت اس قدر حکمتیں پوشیدہ ہیں کہ اگر کوئی قوم اس کے مطابق عمل کرے تو اس کی کایا پلٹ جائے اور وہ اتنی طاقت حاصل کرلے کہ جس کا مقابلہ کرنا لوگوں کے لئے بہت مشکل ہو۔فوجی نقطۂ نگاہ سے بھی یہ بدترین پالیسی ہوتی ہے کہ تمام لوگ لڑنے لگ جائیں اور اس سے زیادہ حماقت کی اور کوئی بات نہیں ہوتی کہ توقع یہ رکھی جائے کہ کوئی آدمی بھی ایسا نہ رہے جو میدانِ جنگ سے باہر ہو۔جیسے ہمارے ملک کے احمق نوجوان جب آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ادھر فرانسیسیوں نے جر من حملہ کو روکا ہوا ہے ادھر جنرل دیگان چپ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔وہ کیوں جرمنوں پر جوابی حملہ نہیں کر دیتا؟ حالا نکہ یہ کمال حماقت کی بات ہے اور محض جنگی فنون کی ناواقفیت کی وجہ سے اس قسم کے اعتراضات دل میں پیدا ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقفہ کو خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھ رہے ہیں کیونکہ صاف بات ہے جب فرانسیسی اور انگریزی فوجیں اپنے مورچوں سے ہٹ گئیں اور جرمن فوجوں کے مقابلہ میں انہوں نے پسپا ہوناشروع کر دیا تو پسپاشدہ فوج کبھی ایک جگہ ٹک نہیں سکتی۔اس کے لئے خدا تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہی ہوتی ہے کہ چند دن کی اسے مہلت مل جائے تاکہ وہ اپنے مورچوں کو اس دوران میں مضبوط کر لے۔چنانچہ جرمنی نے جب شمالی فرانس پر حملہ کر دیا اور چاہا کہ وہ انگلش چینل تک پہنچ جائے تو اتحادیوں نے اپنی فوج کا ایک حصہ اس کے مقابلہ کے لئے رہنے دیا اور باقی فوج کو اپنے مورچے مضبوط کرنے کے لئے پیچھے ہٹالیا اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو فتح ہوتی ہے اور کس کو شکست مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ معقول بات ہے کہ بجائے اس کے کہ ساری فوج شمالی حصہ کی جنگ میں شامل ہوتی انہوں نے شمالی فوج کو جنگ کا زور برداشت کرنے کے لئے چھوڑ دیا اور جنوبی فوجوں کو نئے مورچوں کی مضبوطی کے کام پر لگا دیا تا کہ جب شمال سے فارغ ہو کر دشمن جنوب پر حملہ کرے تو وہ اپنے سامنے ایک سد سکندری کھڑی پائے مگر نادانی کی وجہ سے ہمارے نو جو ان بعض دفعہ اس بات پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں۔گویاوہ جرنیلوں سے بھی زیادہ