خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 130

1940 130 خطبات محمود میاں اسے آٹھ آنہ کے پیسے دے دو۔نوکر نے دیئے تو اس نے شور مچا دیا کہ اتنے بڑے آدمی ہو کر آپ مجھے صرف آٹھ آنے دیئے ہیں۔حالانکہ اُس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ بھی کافی تھے۔روپیہ مہنگا تھا اور میر اخیال ہے کہ وزیر کی تنخواہ بھی اس وقت دو تین سو روپیہ ہی ہوتی ہو گی مگر باوجود اس کے وہ مخیر آدمی تھے اور جو حاجت مند آتا جو کچھ ممکن ہو تا اسے دے دیتے مگر اس محتاج نے شور مچا دیا اور کام کرنا مشکل کر دیا۔آپ نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا اور کام میں حرج کرنے لگا آخر مجبور ہو کر آپ نے نوکر سے کہا کہ اسے پولے پولے (نرم نرم) دھکے مار کر باہر نکال دو۔گو وہ مجبور ہو گئے کہ دھکے مار کر اسے نکالیں مگر شرافت کی وجہ سے پولے پولے دھکے مارنے کی ہدایت بھی ساتھ ہی کر دی۔تو اگر انسان نرمی اور محبت کو اپنا شعار بنالے تو لڑائی میں بھی ایسے الفاظ استعمال کیے جاسکتے ہیں کہ جو سخت نہ ہوں۔جس طرح فقیر صاحب کی مثال میں نے دی ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ سخت کلامی اخلاص پر دلالت نہیں کرتی۔اس کی ایک تازہ مثال آپ لوگوں کے سامنے ہے یعنی میاں فخر الدین ملتانی کی۔ان کی ٹھوکر کا موجب ہی ان کی یہ سخت کلامی ہوئی۔وہ ہمیشہ پیغامیوں کے خلاف سخت مضامین لکھا کرتے تھے۔میں نے ڈانٹا کہ یہ طریق مجھے پسند نہیں کہ مضامین میں گالیاں دی جائیں خواہ وہ میرے شدید مخالفوں کو ہی کیوں نہ ہوں۔یہ بات ان کو بُری لگی کہ میں تو ان کے لئے قربانی کرتاہوں، ان کے مخالفوں کا مقابلہ کرتا ہوں اور یہ ناراض ہوتے ہیں۔انہوں نے پھر ویسا ہی مضمون لکھا اور میں نے پھر ڈانٹا اور ان کو پھر بُر الگا۔دو تین بار ایسا ہی ہوا آخر میں نے ان کو کہا کہ اگر پھر ایسا مضمون لکھا تو سزا دوں گا۔اس پر ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہاں کام کرنے والوں کی کوئی قدر نہیں ان کے نزدیک قدر کے یہی معنے تھے کہ میں خدا، رسول، اسلام اور اخلاق کی کوئی پرواہ نہ کرتا اور اس پر خوش ہو جاتا کہ یہ شخص میری مدد کرتا ہے۔حالانکہ اصل چیز تو خدا تعالیٰ کی خوشنودی ہے اور میں تو خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں۔اگر وہی ناراض ہو کہ میں نے گالیاں دلوائیں تو میں فخر دین صاحب کی امداد کو کیا کرتا۔اس بات سے ان کو ٹھو کر لگ گئی اور یہی سخت کلامی ابتلاء کا موجب ہو گئی۔چنانچہ بعد میں جب ان کے بیان لئے گئے تو یہی معلوم ہوا کہ