خطبات محمود (جلد 21) — Page 117
1940 117 خطبات محمود ہیں۔یہ کام اچھا ہے یا بُرا اس سے قطع نظر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس وقت دو جماعتیں ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ کام کر رہی ہیں مگر یہ دونوں مصری صاحب کے نزدیک غلط راہ پر ہیں۔چنانچہ غیر مبائعین کے متعلق وہ آج سے اٹھارہ سال قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ خوارج کے گروہ کی طرح ہیں اور ہمارے متعلق انہوں نے اب کہا ہے کہ یہ بھی خوارج کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔پس جب دونوں جماعتیں ہی صحیح راستہ سے منحرف ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ پھر دنیا میں صرف ایک ہی جماعت رہ گئی جو صداقت پر قائم ہے اور وہ مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہیں۔پس ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ انہوں نے اسلام کی اشاعت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو پھیلانے کے لئے کیا کیا۔مصری صاحب جب سے علیحدہ ہوئے ہیں ان کا سارا زور ہمارے خلاف صرف ہو رہا ہے۔نہ وہ آریوں کے خلاف لکھتے ہیں ، نہ وہ عیسائیوں کے خلاف لکھتے ہیں، نہ وہ ہندوؤں کے خلاف لکھتے ہیں، نہ وہ پیغامیوں کے خلاف لکھتے ہیں۔گویا آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ( نَعُوذُ بِاللہ ) کوئی نام لیوا دنیا میں باقی نہیں اور جو مصریوں کی شکل میں باقی ہیں وہ بھی اسلام کی خدمت کا کوئی کام سر انجام نہیں دے رہے۔مصری صاحب کہہ سکتے ہیں کہ میرا یہ بھی کام ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مومن کو اپنی نگاہ ہر طرف رکھنی چاہیئے۔پس اگر انہیں ہم میں نقائص دکھائی دیتے ہیں تو وہ بے شک ہم پر اعتراض کریں کیونکہ میرے نزدیک اگر ہم انہیں یہ کہیں کہ ہم پر اعتراض نہ کرو، احرار پر کر دیا ہم پر اعتراض نہ کرو عیسائیوں پر کر دیا ہم پر اعتراض نہ کرو آریوں پر کرو۔تو یہ کسی صورت میں درست نہیں ہو گا۔مومن کا کام ہے کہ وہ ہر طرف توجہ رکھے۔پس ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہم پر اعتراض نہ کریں بلکہ اگر وہ ہمیں غلطی پر سمجھتے ہیں تو یقینا ان کا حق ہے کہ وہ ہمارے خلاف جدوجہد کریں لیکن ایک سوال ہے جس کو وہ کبھی حل نہیں کر سکتے کہ کیا یہ فتنہ جو مصری صاحب کے نزدیک بڑا فتنہ ہے یہ تو اس بات کا حق رکھتا ہے کہ مصری صاحب اپنی تمام کوششیں اس کو مٹانے کے لئے وقف کر دیں مگر وہ فتنے جنہیں خدا اور اس کے رسول نے بڑا قرار دیا ہے ان کو مٹانے کے لئے مصری صاحب کے لئے کسی قسم کی جدوجہد کرنا جائز نہیں۔کیا مصری صاحب کو کبھی آریوں کے خلاف کچھ لکھنے کی بھی توفیق ملی یا عیسائیوں کے