خطبات محمود (جلد 21) — Page 89
1940ء 89 خطبات محمود اگر دوست اپنے وعدے ادانہ کریں تو یہ کہاں سے ادا ہو سکتی ہے ؟ اگر وقت پر یہ قسط ادانہ ہو تو دس روپیہ سینکڑہ جرمانہ ہو جاتا ہے جو گویا بر وقت چندہ ادانہ کرنے والے کی سستی سے ہوا اور اس صورت میں اس کا سو روپیہ چندہ خدا تعالیٰ کے ہاں نوے روپیہ سمجھا جائے گا کیونکہ دس روپیہ جرمانہ اس کی سستی سے ہوا ہے۔ پس دوست توجہ کریں اور اپنے وعدے جلد پورے کریں اور جو نہیں دے سکتے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بیان کیا ہے اب بھی ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ معافی لے لیں اور جو طاقت رکھتے ہیں مگر ادا نہیں کر سکے وہ اپنی اس غلطی کا ازالہ کریں بلکہ کفارہ کے طور پر کچھ زیادہ دیں۔ جو دینے کا وعدہ کر چکے ہیں اور ارادہ رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ ساتھ کے ساتھ کچھ نہ کچھ ادا کرتے جائیں تا سلسلہ کے کام میں نقص نہ واقع ہو۔ میں جانتا ہوں کہ احمدیوں پر بوجھ زیادہ ہیں، ان کی قربانیاں دوسروں سے بڑھی ہوئی ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ ان کے لئے جو انعامات مقدر ہیں وہ بھی دوسروں کے لئے نہیں۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ قربانیاں تو ہم کرتے ہیں مگر دنیوی انعام اور آرام و آسائش دوسروں کو حاصل ہیں۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ ان قربانیوں کے بدلہ میں ان کو تو خد املتا ہے اور دوسروں کو بھیڑ بکریاں۔ رسول کریم صلی الیم نے جب مکہ کو فتح کیا تو بہت سے نئے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور اس کے بعد جو جنگ ہوئی اس میں کچھ اموال آئے تو آپؐ نے وہ مکہ کے نو مسلموں میں تقسیم کر دیئے۔ مدینہ کا ایک نوجوان انصاری اپنی نا سمجھی کی وجہ سے صبر نہ کر سکا اور اس نے کہہ دیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور فتح ہماری وجہ سے ہوئی ہے مگر اموال رسول کریم صلی علیه یم س علیروم نے مکہ والوں میں تقسیم کر دیئے ہیں۔ آنحضرت صلی الی ایم کو بھی خبر پہنچی تو آپ نے انصار کو جمع کیا۔ ان کو بھی علم ہو چکا تھا کہ ایسی رپورٹ آپ کو پہنچ چکی ہے۔ وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! ہمیں علم ہے کہ آپ نے ہمیں کیوں بلوایا ہے مگر ہم سب اس نوجوان کی اس بات کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ لیکن آنحضرت صلی السلام نے فرمایا انصار ! جو : تھا وہ ہو چکا۔ انصار ! تم یہ کہہ سکتے ہو کہ جب محمد کو اس کی قوم نے وطن سے نکال دیا، جب اپنے شہر میں اس پر زندگی تلخ کر دی اس وقت ہم نے اس کے لئے اپنے شہر کے دروازے کھول ہونا