خطبات محمود (جلد 21) — Page 72
1940ء 72 خطبات محمود شکل میں رہیں یا شیعوں کی شکل میں یا خار جیوں اور شیعوں اور پیغامیوں اور مصریوں سب کی صورت میں۔ بہر حال کسی نہ کسی رنگ میں رہیں گے اور یہ بات یقینا فکر والی ہے۔ کیونکہ اگر دشمن نے کسی نہ کسی رنگ میں رہنا ہے اور اگر مخالف نے کسی نہ کسی رنگ میں ہمیشہ ہمارے رستہ میں روڑے اٹکاتے رہنا ہے تو ہمارے لئے بھی ہمیشہ ہی اس کے مقابلہ کا انتظام کرتے رہنا ضروری ہو گا کیونکہ انسانی جسم میں اگر کوئی مرض رہے تو بہر حال اس کا علاج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک شخص کو نزلہ ہوتا ہے اور چند دنوں کے بعد وہ اچھا ہو جاتا ہے تو وہ اتنے ہی دن دوائی کھاتا ہے جتنے دن بیمار رہتا ہے۔ رہتا ہے۔ ایک اور شخص کو کو بخار ہوتا۔ ا و تا ہے اور وہ اچھا ہو جاتا ہے تو وہ بھی صرف اتنے ہی دن دوائی کھاتا ہے جتنے دن بیمار رہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی مرض ایسا ہو جو خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو مگر ہمیشہ ساتھ رہے تو اس کے متعلق انسان ہمیشہ دوائی استعمال کرتارہتا ہے تا کہ مرض دبا رہے اور وہ جسم پر غلبہ نہ پالے۔ پس صرف اس بات پر خوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ ہم غالب رہیں گے کیونکہ اگر کوئی فتنہ ایسا ہے جس نے ہمیشہ دین کے راستہ میں روک بننا ہے تو چاہے وہ صرف ایک شخص کو ہی ہدایت سے روکنے کا موجب بن سکے بہر حال وہ فتنہ ایسا نہیں کہ ہم اس کی طرف سے غافل ہو سکیں۔ رسول کریم صلی الم نے ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے علی تیرے ہاتھ سے ایک شخص کا ہدایت پا جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تجھے ایک بہت بڑی وادی جانوروں سے بھری ہوئی مل جائے۔ 1 اور جب ایک شخص کا ہدایت پا جانا اس قدر بہتر ہے تو صاف ظاہر ہے کہ ایک شخص کا کسی فتنہ سے گمراہ ہونا بھی اتنی ہی خطرناک بات ہے۔ پس یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ وہ تھوڑے ہیں اور ہم زیادہ بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ اگر ان کے ذریعہ ایک شخص بھی گمراہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے کیونکہ اگر ہم بہت ہو کر بھی کسی کو ان کی طرف جانے دیتے ہیں تو یہ امر ہماری بے توجہی پر دلالت کرتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ مصری فتنہ سے طاقت پاکر گزشتہ ایام سے غیر مبائعین پھر سر اٹھا رہے ہیں اور وہ اپنے دل میں یہ امیدیں قائم کر رہے ہیں کہ وہ جماعت میں پھر کوئی فتنہ پیدا کر سکیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایک علیحدہ اخبار “ ینگ اسلام ” اسی غرض سے جاری کیا ہوا ہے اور