خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 455

1940ء 454 خطبات محمود مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سال کے آغاز میں پہلے تین چار ماہ تو دوستوں کی توجہ اس چندہ کی طرف رہی مگر پھر ان پر غفلت طاری ہو گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں 25 ہزار کے قریب چندہ میں کمی آگئی۔ اس کے بعد میں نے پھر توجہ دلائی تو دوستوں میں بیداری پیدا ہوئی مگر ستمبر کا مہینہ ختم ہونے پر دس پندرہ دن کے اندر اندر پانچ سات ہزار کی پھر کمی ہو گئی۔ اس کے بعد پھر توجہ دلائی گئی تو اب یہ حالت ہے کہ آمد قریباً قریباً گزشتہ سال کے برابر ہے۔ صرف کسی دن کی وصولی پچھلے سال سے کم ہو جاتی ہے اور کسی دن کی وصولی پچھلے سال سے بڑھ جاتی ہے۔ یہ طریق بھی انسان کے لئے ثواب کی کمی کا موجب ہوتا ہے اور یوں بھی یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ انسان اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ بھی دے اور پھر ذرا سی غفلت سے اس کے ثواب میں کمی آجائے اور اس کی سستی سلسلہ کے لئے پریشانی کا موجب بن جائے۔ پس ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ وعدہ کے بعد جلد سے جلد اپنے وعدے کو پورا کر دے۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے ذمہ گزشتہ سالوں کا بقایا رہتا ہے انہیں بھی اپنے بقائے صاف کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔ میں نے بار بار کہا ہے کہ اگر وہ چندہ نہیں دے سکتے تو مجھ سے معافی لے لیں اور اگر دے سکتے ہیں تو جلد سے جلد دینے کا انتظام کریں۔ وہ شخص جو چندہ دینے کی طاقت تو نہیں رکھتا مگر معافی بھی نہیں مانگتا وہ متکبر ہے کیونکہ وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اس نے چندہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور وہ اسے ادا کر دے گا مگر حالت یہ ہے کہ وہ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا یا ادا کرنا چاہتا نہیں اور پھر ریاء اس پر اس قدر غالب ہے کہ معافی بھی نہیں مانگتا۔ پس وہ متکبر ہے اور وہ جو توفیق کے باوجو د ادا نہیں کر تا نادہند ہے۔ اسے کسی نے مجبور نہیں کیا تھا کہ اس تحریک میں اپنا وعدہ لکھوائے۔ سوائے ایسی تحریک کے جیسے ایک مومن دوسرے مومن کو کرتا ہے۔ پس اس تحریک میں شامل ہونا اس کی خوشی پر منحصر تھا اور جبکہ اس نے طوعی طور پر چندہ لکھوایا تو یہ نہایت ہی قابلِ شرم بات ہے کہ ایک انسان وعدہ تو اپنی مرضی اور خوشی سے کرے مگر اسے پورا نہ کرے۔ دیر پس میں ان تمام لوگوں کو جن کے ذمہ گزشتہ سالوں کے بقائے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے بقائے پورے کریں تا کہ ثواب کی جگہ انہیں عذاب نہ ملے ۔ اس وقت