خطبات محمود (جلد 21) — Page 454
1940ء 453 خطبات محمود کر دیتا اور سابقون کے زمرہ میں آجاتا ہے لیکن قادیان کی جماعت پھسٹڈی رہ جاتی ہے تو زید کو بھی اس داغ میں سے کچھ حصہ ملے گا۔ اسی طرح فرض کرو کہ بکر لاہور میں چندہ دینے میں خوب چست ہے اور وہ ہمیشہ اضافہ کے ساتھ وعدہ کرتا اور وقت کے اندر اسے پورا کرتا ہے لیکن لاہور کی جماعت چندہ میں پیچھے رہ جاتی ہے تو لاہور کی جماعت کو جو داغ لگے گا وہ اس کو بھی لگے گا۔ باوجود اس بات کے کہ ذاتی طور پر وہ چندہ میں سب سے آگے ہو گا۔ تو جماعتی لحاظ سے بھی سابقون میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وعدہ کرنے والے افراد کی تعداد پہلے سال سے زیادہ ہو ۔ اسی طرح ان کی موعودہ رقوم بھی گزشتہ سال سے اضافہ کے ساتھ ہوں۔ چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں بے شک یہ مشکل پیش آسکتی ہے کہ افراد کے لحاظ سے ان میں کوئی خاص زیادتی نہیں ہو سکتی۔ کسی جگہ اگر ایک سال پانچ سات احمدی ہیں تو دوسرے سال بھی پانچ سات احمد ی ہی ہوں گے مگر بڑی بڑی جماعتوں میں مقابلہ کا راستہ کھلا ہے۔ اس سے ان کی عزت بہت بڑھ سکتی ہے اور اس مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کون سی جماعتیں پیچھے رہی ہیں۔ جب یہ فہرستیں کتابی صورت میں شائع ہو جائیں گی تو اس وقت ہر ایک کے لئے تمام فہرست کا پڑھنا سخت مشکل ہو گا ۔ لیکن یہ بات آسانی سے دیکھی جاسکے گی کہ کون سی جماعت چندوں میں بڑھ کر رہی اور کون سی جماعت پیچھے رہی۔ اور چونکہ اس بات کا معلوم کرنا آسان ہو گا اس لئے جو جماعتیں چندہ میں بڑھ کر رہیں گی ان کے لئے سینکڑوں سال دعائیں ہوتی چلی جائیں گی اور خدا سے جو انہیں ثواب ملے گا وہ الگ ہو گا۔ گویا خدا کے ثواب کے بعد ایسی جماعتیں بندوں کی دعاؤں سے بھی سینکڑوں ہزاروں سال تک حصہ لیتی چلی جائیں گی۔ اس فہرست میں کم و بیش پانچ ہز ار نام ہوں گے اور پانچ ہزار نام پڑھنا آسان کام نہیں لیکن اتنی بات ہر کوئی پڑھ لے گا کہ فلاں فلاں جماعتیں اس چندہ میں اول رہی ہیں۔ پس جماعتی لحاظ سے بھی کوشش کرنی چاہیئے کہ افراد اور وعدوں کے لحاظ سے لسٹیں گزشتہ سال سے بڑھ کر رہیں تاکہ اس حصہ ثواب میں وہ دوسروں سے بڑھ جائیں۔ میں اس موقع پر ایک دفعہ پھر ان لوگوں کو جنہوں نے ادائیگی چندہ کا اقرار کیا ہوا ہے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بغیر کسی کی تحریک کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی فکر رکھا کریں۔