خطبات محمود (جلد 21) — Page 430
1940ء خطبات محمود 429 سے یا قانون کے ماہر موجود ہیں۔ چاہیے تھا کہ ان سے پوچھتے کہ انگریزوں کو اس کا حق بھی ہے یا نہیں۔ بلکہ وزراء بھی نہیں دے سکتے۔ پہلے کوئی ایسی بات اسمبلی میں پیش ہو گی۔ اوپر ہی اوپر یہ بات ممکن ہی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سر ظفر اللہ خان صاحب نے وائسرائے سے اوپر ہی اوپر یہ بات منوالی ہے۔ مگر ان کو معلوم نہیں کہ وائسرائے کو پنجاب کے معاملات میں دخل کا کوئی حق ہی نہیں۔ اب ہر صوبہ آزاد ہے۔ پنجاب گورنمنٹ چاہے تو دے سکتی ہے۔ مگر وہ بھی خود نہیں بلکہ پہلے اس بات کو اسمبلی میں بطور مسودہ پیش کرے گی اور پھر اس کی منظوری سے کوئی ایسی بات کر سکتی ہے۔ یہ بات تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ موضع بڑ کا فلاں لالہ ریاست پٹیالہ فلاں ساہو کار کو دے رہا ہے۔ بھلا اسے ریاست پٹیالہ پر دخل ہی کیا ہے۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ پر خوش گفت است سعدی در زمینی آلَا يَا أَيُّهَا السَّاقِي أَدْرِ كَأْسًا وَنَا وِلْهَا دوسرا مصرعہ حافظ کے ایک شعر کا ہے جو فارسی کا مشہور شاعر تھا اور “ زلیخا” جامی کی تصنیف ہے۔ مگر اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ سعدی نے زلیخا میں کیا خوب لکھا ہے کہ ساقی پیالہ ادھر لا اور اسے گردش دے ۔ حالانکہ سعدی نے زلیخا لکھی ہی نہیں۔ پس پنجاب کا کوئی علاقہ کسی کو دینے کا اختیار حکومت ہند کو ہے ہی نہیں بلکہ پنجاب گورنمنٹ کو و بھی بھی نہیں۔ اسمبلی کو ہے۔ اس میں بھی ایسا مسودہ پیش کرنے کے لئے پہلے غالباً حکومت ہند سے منظوری لینی ضروری ہے۔ پس نہ حکومت کو دینے کا اختیار ہے نہ لینے والوں کے ذہن میں کوئی ایسی بات ہے۔ یہ تو محض پروپیگنڈا ہے جو بعض احراری ملانوں نے سکھوں میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے کیا ہے اور سکھ ان کے دھوکا میں آگئے۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ جب انہوں نے یہ بات ان کے سامنے پیش کی تھی تو وہ ان سے کہتے کہ کیا تم ہم کو بیوقوف سمجھتے ہو۔ ماسٹر تارا سنگھ صاحب کے بڑے لیڈروں میں سے ہیں ہمارے آدمی ان سے ملنے گئے اور اور جب جب ان ان کے کو یہ بات بتائی تو وہ ہنس پڑے اور کہا کہ ریاست تو بادشاہ بھی نہیں دے سکتا۔ تو سکھوں نے اسے پیش کر کے عقلمندوں کو اپنے اوپر ہنسی کا موقع دیا ہے۔ باقی رہا تر دید کا سوال سو وہ حکومت کو کرنی چاہیئے تھی، سکھوں