خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 4

1940 4 خطبات محمود الله تکبر کے ساتھ پیش نہ آؤ، کسی کی عیب چینی نہ کرو، تجسس اور غیبت نہ کرو، اور یہی اس حدیث کا خلاصہ ہے۔پس اس حدیث میں جو کچھ کہا گیا وہ کوئی نئی بات نہیں۔رسول کریم صلی ایم کی تعلیم میں پہلے سے یہ تمام باتیں موجود تھیں۔قرآن کریم میں بھی ہر بات کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔البتہ اس وصیت میں اس تعلیم کو ایک خاص صورت دے دی گئی ہے ورنہ مضمون وہی ہے صرف اس وقت کی اہمیت کو مد نظر رکھ کر رسول کریم صلی الیم نے یہ وصیت کی۔آپ نے سوچا کہ جب میں دنیا سے چلا جاؤں گا تو مسلمانوں کو یہ اہم سبق یاد دلانے والے بہت کم رہ جائیں گے بلکہ بعض صورتوں میں تو ممکن ہے کہ کوئی بھی یہ سبق یاد دلانے والا نہ رہے۔پس کیوں نہ میں ہر مسلمان کو دوسروں کا ناصح بنادوں تا یہ ضرورت ہی نہ رہے کہ کوئی خلیفہ ان تک یہ بات پہنچائے، یہ ضرورت ہی نہ رہے کہ کوئی معلم ان تک بات پہنچائے، یہ ضرورت ہی نہ رہے کہ کوئی واعظ ان تک بات پہنچائے ، یہ ضرورت ہی نہ رہے کہ کوئی بڑا بزرگ اسے بیان کرے، یہ ضرورت ہی نہ رہے کہ کوئی باپ اسے بیان کرے یاماں بیان کرے یا کسی کا کوئی دوست اور عزیز بیان کرے بلکہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے سامنے اس حدیث کو بیان کرے اور بیان کرتا چلا جائے اور یقینا نصیحت کو پھیلانے کا اس سے بڑھ کر لطیف گر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔پس رسول کریم صلی الم نے یہ فرما کر کہ اِن دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرُمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا۔یہ نہیں فرمایا کہ فَلْيُبَلِّغَ الْعَالِمُ الْجَاهِلَ۔اگر آپ یہ فقرہ آخر میں دہر ا دیتے تو ممکن ہے اس کا مطلب یہ لے لیا جاتا کہ یہ حدیث امت محمدیہ کے ایسے ہی افراد تک پہنچانا ہمارا فرض ہے جن تک یہ حدیث پہلے نہ پہنچی ہو بلکہ ممکن ہے مسلمان یہی مفہوم سمجھتے اور وہ کہتے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے صرف یہ حکم دیا ہے کہ اے مسلمانو! تم ان لوگوں تک اس حدیث کو پہنچاؤ جو اس سے ناواقف ہیں۔اگر کوئی اس حدیث کو پہلے جانتا ہو تو اسے پہنچانے کی ضرورت نہیں مگر رسول کریم صلی علیکم نے یہ نہیں فرمایا بلکہ فرمایا فَلْيُبَلّغ الشَّاهِدُ الْغَائِب اور شاہد کے معنی عالم کے نہیں بلکہ شاہد کے معنی یہ ہیں کہ وہ شخص جو اس مجلس میں بیٹھا ہوا ہو جس میں یہ حدیث بیان کی جارہی