خطبات محمود (جلد 21) — Page 392
خطبات محمود 391 کیا ڈیڑھ چلو پانی سے ایمان بہہ گیا $1940 اس نے تو ایک ناجائز چیز کا ذکر کر کے کہا ہے کہ کیا میں اس کا ڈیڑھ چلو پی کر ہی کا فر ہو گیا مگر جو جائز باتیں ہیں ان کے متعلق ہم یہ کہاں فرض کر لیں کہ ہماری جماعت میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کا ایمان مخالفوں کا ایک اشتہار یا صرف ایک ٹریکٹ یا ایک کتاب پڑھنے سے ہی ضائع ہو جائے گا اور وہ ایسا متاثر ہو گا کہ احمدیت کو چھوڑ دے گا اور اگر کوئی متاثر ہو گا تو اسی وجہ سے کہ ہم نے اسے احمدیت کی حقانیت کے دلائل پوری طرح نہیں سمجھائے ہوں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے غافل ہو جاتی ہے تو وہ اپنی اس ذمہ داری کو جو قوم کے تمام افراد کو صحیح تعلیم دینے سے تعلق رکھتی ہے ادا کرنے میں سست ہو جاتی ہے۔اس قوم کے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ جب ہم نے دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے اپنی تمام قوم کو منع کر دیا ہے تو وہ غیر کے اثرات سے متاثر ہی کب ہو گی گویا وہ اصلاح کا ایک شارٹ کٹ تجویز کرتے ہیں حالانکہ اس سے زیادہ خطر ناک اور تباہ کن راستہ اور کوئی نہیں۔جب ہم اپنی جماعت کے افراد کو یہ آزادی دیں گے کہ وہ دوسرے کے لٹریچر کو بھی پڑھیں تو لازماً ہمیں یہ فکر رہے گا کہ ہم دوسروں کے پیدا کردہ شبہات کا بھی ازالہ کریں اور اس کے تردیدی دلائل ان کے ذہن نشین کریں۔لیکن اگر ہم انہیں دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے ہی منع کر دیں گے تو لازما ہم تعلیمی پہلو میں ست ہو جائیں گے اور ہمیں یہ احساس نہیں رہے گا کہ دوسروں کے دلائل کا جواب بھی اپنے افراد کو سکھانا چاہیئے۔چنانچہ فرض کرو اگر ہم کہہ دیں کہ جماعت کا کوئی شخص دوسروں کا لٹریچر نہ پڑھے تو چونکہ حیات مسیح کے دلائل جو وہ پیش کرتے ہیں انہی کی کتب میں سے مل سکتے ہیں اس لئے یہ دلائل ہماری جماعت کی نظروں سے مخفی رہیں گے اور ان کا کوئی جواب ہمارے افراد کو نہیں آئے گا۔اسی طرح ہم وفات مسیح کے دلائل بھی زیادہ توجہ سے اپنے افراد کو نہیں سکھا سکیں گے کیونکہ وفات مسیح کے دلائل کی ضرورت بھی حیات مسیح کے دعویٰ کے مقابلہ میں ہی پیش آیا کرتی لیکن اگر دوسرا شخص حیات مسیح کے دلائل پیش کرے اور وہ دلائل ہماری جماعت کے سے