خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 383

$1940 382 خطبات محمود وہ نوکروں کو ہدایات دینی شروع کر دیتے ہیں کہ صبح مرغا تیار ہو ، ساتھ پر اٹھے پکائے جائیں اور مکھن وغیرہ کا بھی انتظام ہو۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روزے رکھانے سے شریعت کی تو یہ غرض ہوتی ہے کہ انسان کچھ ریاضت کا عادی ہو جائے اور غرباء کی حالت کا اسے علم حاصل ہو جائے مگر وہ ان روزوں کے بعد پہلے سے دوگنے موٹے ہو جاتے ہیں۔پس روزوں کی یہ غرض نہیں بلکہ روزوں کی غرض یہ ہے کہ انسان کے اندر بھوک اور پیاس کی تکلیف کو برداشت کرنے کا مادہ پیدا ہو اور امراء کو اپنے غریب بھائیوں کی امداد کا احساس ہو۔جو شخص کبھی بھوکا نہ رہے اسے غرباء کی امداد کا کہاں خیال آسکتا ہے لیکن جو شخص خود روزہ رکھے گا اور بھوک کی تکلیف کو محسوس کرے گا اسے غریب بندوں کی تکلیف کا بھی احساس ہو گا۔پس امراء پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔وہ شریعت کے ان احکام کو اُس قدرو منزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جس قدرو منزلت کی نگاہ کے ساتھ انہیں ان احکام کو دیکھنا چاہیے بلکہ بعض امراء تو دین کی حقیقت سے اتنے ناواقف ہوتے ہیں کہ وہ افطاری اور سحری تو ضروری سمجھتے ہیں مگر روزہ رکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔تو یہ چیز ایسی ہے جس سے بچنا چاہیئے۔ایسے کمزور بچوں کو جن کی طاقتوں اور قوتوں نے ابھی پورے طور پر نشو و نما حاصل نہ کیا ہو روزوں میں وقفہ دے دینا شریعت کے خلاف نہیں بلکہ اگر کوئی اس پر اعتراض کرتا ہے تو وہ میرے نزدیک کچھ حجت ملا ہے کیونکہ وہ چند روزوں کی خاطر اس کی تمام عمر بر باد کرتا ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ نوجوان جس میں کافی طاقت پائی جاتی ہے اور پھر بھی وہ روزہ نہیں رکھتا محض اس وجہ سے کہ اس کی عمر ابھی اٹھارہ سال کی نہیں ہوئی وہ بھی بے دین ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اسے جو سہولت دی تھی اس سے وہ ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔پس یہ دونوں ہی غلط راستہ پر ہیں۔وہ جو کسی کمزور بچے سے زبر دستی روزے رکھواتا ہے اور اس سے یہ امید کرتا ہے کہ وہ ایک روزہ کا بھی ناغہ نہ کرے وہ بھی ظالم اور کچھ حجت ملا ہے اور وہ جو طاقت کے باوجود محض اس بہانہ کی آڑ میں روزہ نہیں رکھتا کہ ابھی اس کی عمر کم ہے وہ بھی دین سے تمسخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی بجائے اس کی دشمنی مول لیتا ہے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ روزوں میں عادت کا بھی بہت کچھ دخل ہوتا ہے۔بیشک 18 سال