خطبات محمود (جلد 21) — Page 368
خطبات محمود 367 $1940 قرآن خدا کا کلام ہے اور اس کے اندر غیر محدود علوم اور معارف پنہاں ہیں۔اس یقین کی موجودگی میں قرآن کبھی بند کتاب کی طرح نہیں رہے گا بلکہ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں اس میں سے نئے سے نئے علوم نکلتے آئیں گے مگر جس دن لوگوں نے قرآن کریم کے علوم کو محدود سمجھ لیا، جس دن انہوں نے خیال کر لیا کہ قرآن اتنے رکوعوں، اتنی سورتوں اور اتنے پاروں کی کتاب ہے اور اس کے متعلق فلاں نے یہ لکھا ہے اور فلاں نے وہ اور یہ کہ اس سے زیادہ اب کوئی معرفت کی بات قرآن کریم سے نہیں نکل سکتی اُس دن قرآن لوگوں کے لئے بند ہو جائے گا اور اس میں سے کوئی نور اور معرفت کا نیا نکتہ انہیں نہیں سوجھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے اندر یہی ایمان پیدا فرمایا ہے کہ قرآن غیر محدود معارف کا حامل ہے اور جس طرح خد اتعالیٰ کی طاقتیں انسانی حد بست سے بالا ہیں اسی طرح قرآنی معارف کا بھی کوئی شخص احاطہ نہیں کر سکتا۔یہ معارف قرآن میں سے نکلتے چلے آئے ہیں اور ضرورت زمانہ کے متعلق ہمیشہ نکلتے چلے جائیں گے۔یہ دروازہ نہ پہلے کبھی بند ہوا اور نہ آئندہ کبھی بند ہو گا۔قرآن کے متعلق یہی ایمان ہے جو اصل چیز ہے باقی سب تفاسیر اس کی جزئیات ہیں۔جب تک تمہارے دلوں میں یہ ایمان رہے گا قرآن کے وسیع علوم تم پر کھلتے چلے جائیں گے مگر جس دن یہ ایمان تمہارے دلوں سے نکل گیا اس دن تم قرآن کو تو کھولو گے اور اسے پڑھو گے بھی مگر جس طرح گنے کو چوس کر اس کے چھلکے کو الگ پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح تمہیں قرآن کے الفاظ اس چھلکے کی طرح دکھائی دیں گے جس کا رس چوس لیا گیا ہو مگر اس ایمان کی موجودگی میں جب تم قرآن کو پڑھو گے تو تمہاری حالت اس پیاسے کی سی ہو گی جو سخت پیاس کی حالت میں دریائے سندھ یا برہم پتر کو اپنا منہ لگا دے اور خیال کرے کہ وہ تمام در یا ایک ہی سانس میں پی جائے گا مگر ایک دو چلو پانی پینے کے بعد ہی اس کی پیاس بجھ جائے اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائے کہ دریا تو اسی شان سے بہتا چلا جارہا ہے اور اس کی پیاس دو چلو پانی سے ہی بجھ گئی ہے۔میں اپنے جوش میں کہیں سے کہیں کا نکل گیا۔میری غرض تو اس وقت یہ اعلان کرنا تھا کہ جن دوستوں نے اس تفسیر کا پہلا حصہ منگوا لیا تھا وہ اب دفتر تحریک جدید میں